برسلز/کیف: یوکرین کی پولینڈ سے متصل سرحد کے قریب ایک مسافر ٹرین پر روسی ڈرون حملے کے بعد یورپی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس واقعے سے یوکرین کی حمایت کم نہیں ہونی چاہیے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے 14 ستمبر 2026 کو فن لینڈ کے شہر رووانیمی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں حملے کا مقصد یوکرین کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کو خوف زدہ کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں اتحادیوں کو اپنی حمایت جاری رکھنے کا واضح پیغام دینا چاہیے۔

یہ حملہ ایک روز قبل یوکرین کے یاہودین علاقے کے قریب ہوا، جو پولینڈ کے ساتھ سرحدی گزرگاہ کے نزدیک واقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈرون نے وارسا کی سمت جانے والی ایک مسافر ٹرین یا اس سے منسلک ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں ٹرین کے مسافروں کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ یوکرینی ریلوے حکام نے کہا کہ ایک سفارتی ٹرین کچھ دیر پہلے اسی علاقے سے گزر چکی تھی۔

اس سفارتی ٹرین میں سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، سابق سویڈش وزیراعظم کارل بلڈٹ اور یورپی سکیورٹی سے وابستہ دیگر شخصیات کے سفر کی اطلاع دی گئی۔ سابق امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس بھی ایک دوسری ٹرین کے ساتھ اسی سرحدی علاقے میں موجود تھے۔ یوکرینی ریلوے حکام نے یہ امکان ظاہر کیا کہ حملے کا اصل ہدف سفارتی ٹرین ہو سکتی تھی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے بھی حملے کو یورپی ممالک کو ڈرانے اور تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ ایسے حملے مغربی حمایت کو ختم نہیں کریں گے۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے واقعے کو خطرناک اور دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے یورپی ممالک سے تحمل اور دفاعی تیاری دونوں برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

یہ واقعہ اس لیے زیادہ حساس سمجھا جا رہا ہے کہ حملہ نیٹو رکن پولینڈ کی سرحد کے انتہائی قریب ہوا۔ یوکرین پر اسی وسیع حملہ لہر میں سینکڑوں ڈرون اور میزائل داغے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں دیگر علاقوں میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولش حکام نے خبردار کیا کہ یوکرین کے مغربی حصوں میں حملوں کی بڑھتی شدت سے سرحد پار سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ریلوے نیٹ ورک فوجی رسد کے ساتھ شہری نقل و حرکت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ روسی حکام ماضی میں یوکرینی ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر پر بعض حملوں کو فوجی رسد سے جوڑتے رہے ہیں، جبکہ کیف اور اس کے اتحادی شہری تنصیبات پر حملوں کو جنگ کی توسیع قرار دیتے ہیں۔ تازہ واقعے کے بعد یورپی ردعمل کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ سرحد کے قریب حملہ یوکرین کی حمایت میں کمی کے بجائے مزید سیاسی اور سکیورٹی ہم آہنگی کا سبب بننا چاہیے۔