بیروت: لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان کے قصبے کفر رمان میں اسرائیلی حملوں سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ 14 ستمبر کو ہونے والے یہ حملے حالیہ ہفتوں کے مہلک ترین اسرائیلی حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں اور جون میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں دوبارہ بڑے پیمانے پر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے میں 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ بچے اور تین خواتین شامل تھے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملہ نصف شب کے بعد ہوا۔ اسی قصبے میں ایک الگ اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک طبی کارکن ہلاک اور دو دوسرے طبی اہلکار زخمی ہوئے۔ یوں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی۔
علاقے میں موجود رائٹرز کے صحافیوں نے تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں بچوں کی کتابیں دیکھیں جبکہ امدادی ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹا کر لاپتا افراد کو تلاش کر رہی تھیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق حملے کے وقت خاندان اپنے روزمرہ کاموں اور بچوں کی اسکول روانگی کی تیاری میں مصروف تھے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے کفر رمان کے علاقے میں ایسے افراد کو نشانہ بنایا جنہیں ہتھیار منتقل کرتے دیکھا گیا تھا۔ فوج کے مطابق شہری نقصان کم کرنے کے لیے درست ہتھیاروں اور فضائی نگرانی سمیت اقدامات کیے گئے، تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ غیر متعلقہ افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ لبنان میں متاثرہ رہائشی عمارت پر حملے سے پہلے اسرائیلی فوج کی جانب سے آن لائن انخلا کا انتباہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ حزب اللہ نے رات کے دوران علی الطاہر پہاڑی سلسلے کے قریب اسرائیلی فوجیوں کی طرف دو دھماکا خیز ڈرون بھیجے۔ اسرائیل نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس علاقے سے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نکال دیا ہے۔ حزب اللہ نے اس دعوے پر فوری تبصرہ نہیں کیا اور رائٹرز آزادانہ طور پر وہاں کی فوجی صورتحال کی تصدیق نہیں کر سکا۔
لبنانی حکام کے مطابق ایک روز پہلے بھی جنوبی لبنان کے تین قصبوں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جون کی جنگ بندی کے بعد مجموعی تشدد میں کمی آئی تھی، لیکن اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی خود اعلان کردہ سکیورٹی زون اور اس سے شمال کے علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دونوں طرف کے دعوؤں اور تیزی سے بدلتی زمینی صورتحال کے باعث شہری جانی نقصان اور جنگ بندی کے مستقبل پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

