دبئی/تعز: خلیجی عرب ممالک اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق عمان میں طے شدہ مذاکرات 14 ستمبر کو ملتوی ہو گئے، جبکہ اسی روز یمن کے حوثی گروپ نے جنوبی سعودی عرب میں خمیس مشیط کے ایک فوجی اڈے پر بڑے میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا۔ ان دونوں پیش رفتوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کے مزید پھیلنے اور عالمی توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے خمیس مشیط میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں میزائل اور ڈرون استعمال کیے۔ گروپ نے حملے کو یمن میں حالیہ سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط اور جنوبی خطے کے مزید شہروں میں ہنگامی انتباہات جاری کیے، تاہم حوثیوں کے تمام دعووں اور ممکنہ نقصان کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔
تازہ حملہ ایسے وقت ہوا جب چند روز قبل سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ ریاض نے اس کارروائی کا الزام عراق میں ایران نواز جنگجوؤں پر عائد کیا ہے۔ یہ پائپ لائن خلیجی تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر تک پہنچانے کا اہم راستہ ہے۔ مارکیٹ کے بعض مبصرین نے اندازہ لگایا کہ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو عالمی تیل کی رسد کا تقریباً چار فیصد متاثر ہو سکتا ہے، تاہم سعودی عرب نے بحالی کے لیے کوئی حتمی مدت نہیں بتائی۔
عمان کو پیر کے روز ایران اور خلیجی ممالک کی میٹنگ کی میزبانی کرنا تھی جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ زیادہ محفوظ اور قابل استعمال بنانے کے لیے سفارتی تجاویز پر بات ہونا تھی۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ اجلاس اتفاق رائے کے مفاد میں ملتوی کیا گیا ہے، جبکہ ایران نے کہا کہ التوا سعودی عرب کی درخواست پر ہوا۔ اس دعوے کی سعودی حکام کی جانب سے فوری الگ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل بردار بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور موجودہ جنگ کے دوران اس کے ذریعے جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے ایسے 77 جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کے آپریشنل ضوابط کی خلاف ورزی کی؛ تہران نے مستقبل میں ان جہازوں پر جرمانے، حراست یا ضبطی سمیت اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران اس بحری راستے کی صورت حال اور مختلف جہازوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق کئی معاملات پر متضاد مؤقف رکھتے ہیں۔
یمن میں بھی لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ہفتے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع پریم جزیرے سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کیا۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے تخمینے کے مطابق ستمبر کے آغاز سے اب تک تقریباً 82 ہزار یمنی شہری نئی لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ یہ تعداد جاری بحران میں انسانی دباؤ کی شدت ظاہر کرتی ہے، تاہم زمینی حالات مسلسل بدل رہے ہیں۔
تیل کی عالمی قیمتیں پیر کو ابتدائی طور پر چار فیصد سے زیادہ بڑھی تھیں اور بعد میں کچھ کمی آئی۔ موجودہ بحران کی معاشی اہمیت صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں، کیونکہ توانائی درآمد کرنے والے پاکستان جیسے ممالک کے لیے مہنگا تیل درآمدی بل، مہنگائی اور مقامی ایندھن قیمتوں پر اضافی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ سفارتی مذاکرات کی بحالی، سعودی تیل انفراسٹرکچر کی مرمت اور یمن میں لڑائی کی سمت آنے والے دنوں میں عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔

