اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، افغانستان، جموں و کشمیر، دہشت گردی، اقوام متحدہ کے کردار اور عالمی کثیرالجہتی نظام کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ گوتریس پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد میں ہیں۔
ملاقات اور مشترکہ گفتگو کے دوران گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ متحارب فریقوں کے ساتھ پاکستان کے اعتماد پر مبنی روابط نے مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے حالات پیدا کرنے میں مدد دی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے خودمختاری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کی بنیاد پر سفارتی کوششیں کیں۔
گوتریس نے فریقوں پر زور دیا کہ تنازع ختم کرکے سفارت کاری کی طرف واپس آئیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری نقل و حرکت کے حقوق بحال کیے جائیں۔ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت دہرائی۔
اسحاق ڈار نے جموں و کشمیر سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے پر بھی اعتراض اٹھایا اور اسے بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تناظر میں چیلنج کیا۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے، جبکہ متعلقہ تنازعات پر دوسرے فریقوں کے مؤقف الگ ہیں۔
افغانستان کے معاملے پر ڈار نے پاکستان کے ان خدشات کو دہرایا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور عالمی برادری سے اس مسئلے پر کردار ادا کرنے کو کہا۔ گوتریس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جائز سکیورٹی خدشات کا حل بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی مالیاتی اداروں سمیت بین الاقوامی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی بات کی۔ گوتریس نے کہا کہ موجودہ سلامتی کونسل آج کی دنیا کی نمائندگی مناسب طور پر نہیں کرتی۔ ملاقات پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا حصہ ہے اور گوتریس کے دورے میں پاکستانی قیادت کے ساتھ مزید ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

