اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 6 اکتوبر کو اسلام آباد میں اپنے سرکاری دورے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے فریقین سے دوبارہ مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا۔ ڈان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس میں گوتریس نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ اور بات چیت کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، بعد کی جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک تک پہنچنے کی کوششوں میں مدد دی۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ نے بھی 6 اکتوبر کو بتایا کہ گوتریس نے اسلام آباد سے امریکا ایران جنگ ختم کرنے کی اپیل کی اور اس تنازع کے عالمی تجارت پر اثرات کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا استحکام کا راستہ عسکری تصادم کے بجائے مذاکرات سے نکلتا ہے۔ ان کے مطابق فریقین کو کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق بحال ہونے چاہئیں۔

گوتریس کا دورہ 6 سے 8 اکتوبر تک شیڈول ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف سے ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے ہیڈکوارٹر اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا دورہ بھی پروگرام میں شامل ہے۔ وزارت خارجہ نے اس دورے کو پاکستان اور اقوام متحدہ کے تعاون، کثیرالجہتی نظام اور علاقائی و عالمی امن کے موضوعات پر تبادلہ خیال کا موقع قرار دیا ہے۔

پاکستان حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ کاری اور ثالثی کی کوششوں میں خود کو فعال فریق کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے سابقہ بیانات میں بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو تنازع کے پرامن حل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے دونوں فریقوں سے اپنے وعدوں پر عمل اور مذاکرات کی بحالی کی اپیل کی گئی تھی۔ گوتریس کے حالیہ بیانات اسی سفارتی عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم تنازع کے خاتمے یا کسی نئے معاہدے سے متعلق کوئی حتمی پیش رفت اس پریس کانفرنس میں اعلان نہیں کی گئی۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے فلسطین کے مسئلے پر بھی سیاسی حل اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے دورے کے باقی حصے میں علاقائی امن، افغانستان، کشمیر، انسداد دہشت گردی، کثیرالجہتی نظام اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری جیسے موضوعات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔