گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دو مقامات پر جاری کارروائیوں کے دوران تین مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے اور سات دیگر کو گھیرے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ Geo News نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایک تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد فورسز نے فوری کارروائی کی۔ یہ تفصیلات سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں اور کارروائی کے جاری ہونے کے باعث آزادانہ طور پر تمام پہلوؤں کی تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں تھی۔

ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے تعمیراتی کمپنی کے ایسے کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جو اس وقت خالی تھا۔ سکیورٹی فورسز کے ردعمل میں تین مبینہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ اسی مقام پر مزید تین افراد کو گھیرے میں لینے کی اطلاع دی گئی۔ حکام کی جانب سے ابتدائی معلومات میں کسی شہری یا کمپنی کے کارکن کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی دوران گوادر ہائی وے کے قریب ایک ہوٹل میں موجود مبینہ دہشت گردوں کے خلاف الگ کارروائی بھی جاری رہی۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہوٹل میں چار افراد کو محصور کر لیا گیا تھا۔ یوں دونوں مقامات پر گھیرے میں لیے گئے افراد کی مجموعی تعداد سات بتائی گئی۔ ذرائع کے مطابق گوادر کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کارروائی کی نگرانی کر رہے تھے۔

رپورٹ میں حملہ آوروں کو سکیورٹی حکام کی استعمال کردہ اصطلاح کے مطابق ایک ممنوعہ یا مسلح نیٹ ورک سے منسوب کیا گیا، تاہم خبر میں بیان کردہ وابستگی سرکاری یا سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے۔ کسی گروہ کی جانب سے فوری طور پر ذمہ داری قبول کرنے یا کارروائی کی آزاد تصدیق کی تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔ اسی لیے ہلاک یا محصور افراد کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کو حتمی عدالتی یا آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

گوادر بلوچستان میں بندرگاہ، شاہراہوں اور ترقیاتی منصوبوں کے باعث معاشی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، اور ماضی میں بھی علاقے میں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ مقامات کو حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد سکیورٹی ادارے عموماً علاقے کی ناکہ بندی، تلاشی اور کلیئرنس کارروائیاں کرتے ہیں۔

تازہ کارروائی کی مکمل تصویر آپریشن کے اختتام اور متعلقہ سرکاری اداروں کی تفصیلی بریفنگ کے بعد واضح ہوگی۔ ابتدائی رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا، تین مبینہ حملہ آور مارے گئے اور دو الگ مقامات پر سات افراد کو گھیرے میں لینے کی اطلاع دی گئی۔