جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں ججوں کی خالی آسامیوں کے لیے مختلف ہائی کورٹس سے پانچ ججوں کی نامزدگی منظور کر لی ہے۔ اجلاس میں لاہور، سندھ، بلوچستان اور پشاور ہائی کورٹس سے تعلق رکھنے والے ججوں کے ناموں پر غور کیا گیا اور اکثریتی فیصلے کے ذریعے انہیں سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے آگے بھیجنے کی منظوری دی گئی۔

رپورٹس کے مطابق منظور کیے گئے ناموں میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عدنان اقبال چوہدری، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس کامران حیات اور پشاور ہائی کورٹ سے متعلق نامزد جج شامل ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی منظوری عدالتی تقرری کے آئینی عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے، تاہم حتمی تعیناتی متعلقہ آئینی اور سرکاری مراحل مکمل ہونے کے بعد مؤثر ہوتی ہے۔

جوڈیشل کمیشن اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے لیے امیدواروں کی اہلیت، سنیارٹی، پیشہ ورانہ ریکارڈ اور دیگر متعلقہ عوامل پر غور کرتا ہے۔ سپریم کورٹ میں خالی آسامیوں کے تناظر میں مختلف ہائی کورٹس سے نام طلب کیے گئے تھے۔ اجلاس میں کمیشن کے عدالتی، حکومتی اور دیگر مقررہ ارکان نے شرکت کی اور ہر نام پر الگ غور کیا گیا۔

اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں حالیہ برسوں میں قانونی اور سیاسی حلقوں میں خاص توجہ کا موضوع رہی ہیں، بالخصوص آئینی ترامیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی ساخت اور تقرری کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کے لیے پانچ ججوں کی ایک ساتھ نامزدگی عدالت عظمیٰ کی افرادی قوت اور مقدمات کی سماعت کی صلاحیت کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

نامزد جج سپریم کورٹ میں شامل ہونے کے بعد مختلف نوعیت کے آئینی، فوجداری، دیوانی اور عوامی اہمیت کے مقدمات کی سماعت میں حصہ لے سکیں گے۔ تاہم بینچوں کی تشکیل اور مقدمات کی تقسیم عدالت کے داخلی انتظامی طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔ نامزدگی کو کسی مخصوص مقدمے یا آئینی تنازع سے جوڑنے کی سرکاری سطح پر کوئی بنیاد فراہم نہیں کی گئی۔

اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت جوڈیشل کمیشن کی جانب سے پانچ ناموں کی منظوری ہے۔ باضابطہ تقرری، حلف اور سپریم کورٹ میں عملی ذمہ داریاں سنبھالنے کے مراحل متعلقہ نوٹیفکیشن اور آئینی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔