ڈیرہ اسماعیل خان: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے مرکزی انڈس ہائی وے پر 17 افراد کے اغوا کے واقعے پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک مبینہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ سی ٹی ڈی ڈیرہ دفتر میں تھانہ پروآ کے ایس ایچ او عظیم وزیر کی مدعیت میں درج کیا گیا اور تفتیش باضابطہ طور پر شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مسلح افراد نے بدھ کو ڈیرہ اسماعیل خان کو ساہیوال سے ملانے والی انڈس ہائی وے پر غیرقانونی ناکہ قائم کیا تھا۔ حملہ آوروں نے ایک مسافر بس اور چشما شوگر ملز کی گاڑی کو روکا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شوگر مل کے آٹھ کارکنوں کو گاڑی سے اتار کر مسلح افراد کی پک اپ میں بٹھایا گیا اور نامعلوم مقام کی طرف لے جایا گیا۔
شوگر مل کی گاڑی کے ڈرائیور نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ مسلح افراد نے علاقے میں فیول پلانٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے افراد کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ پولیس کی مرتب کردہ تفصیل کے مطابق مجموعی طور پر 17 افراد اغوا ہوئے، جن میں آٹھ شوگر مل کے کارکن اور نو دوسرے منصوبوں سے وابستہ ملازمین شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 365، مسلح ہنگامہ آرائی سے متعلق دفعہ 148 اور غیرقانونی اجتماع کے مشترکہ مقصد سے متعلق دفعہ 149 سمیت انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمہ درج ہونا تفتیشی کارروائی کا آغاز ہے؛ اس مرحلے پر نامزد یا منسوب افراد کے خلاف الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔
پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کو ٹی ٹی پی سے منسلک قرار دیا ہے۔ یہ نسبت تفتیشی اداروں کے مقدمے اور ابتدائی معلومات پر مبنی ہے، جبکہ کسی ملزم کے خلاف حتمی ذمہ داری عدالت میں شواہد کی جانچ کے بعد طے ہوگی۔ دستیاب رپورٹ میں مغوی افراد کی بازیابی کی تصدیق نہیں کی گئی اور تفتیشی ٹیمیں واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں حالیہ عرصے میں مسلح حملوں، اغوا اور سکیورٹی واقعات کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ مرکزی شاہراہ پر مسافروں اور صنعتی و ترقیاتی منصوبوں کے کارکنوں کا اغوا مقامی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی اہم سکیورٹی مسئلہ ہے۔
تازہ پیش رفت کا تصدیق شدہ پہلو 17 افراد کے اغوا کے واقعے پر سی ٹی ڈی کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج اور باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہے۔ مغویوں کی موجودہ جگہ، کسی تاوان کے مطالبے یا ممکنہ بازیابی کے بارے میں مزید معلومات سرکاری تصدیق کے بغیر شامل نہیں کی جا سکتیں۔

