قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے حکومت سے نیب کے دائرہ اختیار میں آنے والے کرپشن مقدمات کی مالی حد 50 کروڑ روپے سے کم کرکے 5 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قانونی حد کی وجہ سے ادارہ 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے مبینہ کرپشن معاملات کو اپنے دائرہ کار میں نہیں لے سکتا، جس سے کئی اہم مقدمات پر کارروائی محدود ہوتی ہے۔
Dawn کے مطابق نیب چیئرمین نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ حکومت سے قانون پر نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے تاکہ ادارہ کم از کم 5 کروڑ روپے مالیت کے معاملات کی بھی تحقیقات کر سکے۔ یہ فی الحال نیب کی تجویز ہے؛ قانونی حد میں تبدیلی کے لیے متعلقہ قانون سازی یا حکومتی و پارلیمانی عمل درکار ہوگا۔ اسے نافذ شدہ نئی حد نہیں سمجھا جا سکتا۔
بریفنگ میں نیب حکام نے بڑے پیمانے پر سرکاری زمین اور اثاثوں کی بازیابی کے دعوے بھی پیش کیے۔ ڈائریکٹر جنرل آپریشنز امجد اولکھ کے مطابق ادارے نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں 9.18 ٹریلین روپے مالیت کی سرکاری زمین بازیاب کرائی، جبکہ 2023 سے مجموعی ریکوری 11.524 ٹریلین روپے بتائی گئی۔ یہ اعداد نیب کے سرکاری دعوے ہیں اور مختلف اثاثوں کی قیمت بندی متعلقہ سرکاری تخمینوں پر مبنی ہو سکتی ہے۔
نیب چیئرمین نے پاکستان ریلوے کی 235,622 کنال زمین واگزار کرانے کا بھی دعویٰ کیا، جس کی مالیت 6.78 ٹریلین روپے بتائی گئی۔ سیکریٹری ریلوے نے Dawn سے گفتگو میں بڑی مقدار میں تجاوز شدہ زمین کی واگزاری کی تصدیق کی اور کہا کہ بازیاب اثاثوں کو استعمال یا فروخت کرنے کے لیے ایک محفوظ طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے تاکہ حاصل ہونے والی رقم مستقبل کے منصوبوں اور ریلوے خدمات کی بہتری پر خرچ ہو سکے۔
نیب نے آئندہ توجہ کے شعبوں میں بجلی کا شعبہ، متروکہ وقف املاک، سرکاری ادارے، کان کنی اور معدنیات کا ذکر کیا۔ چیئرمین نے منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات پر بھی زور دیا اور بیرون ملک منتقل ہونے والے سرمائے کے ذرائع کی جانچ کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت بیان کی۔
موجودہ خبر میں دو الگ نوعیت کی پیش رفت اہم ہے: پہلی، کرپشن کیس کی مالی حد کم کرنے کی قانونی تجویز؛ دوسری، نیب کی جانب سے سرکاری زمین اور اثاثوں کی ریکوری کے اعداد۔ مالی حد میں کوئی تبدیلی ابھی حتمی نہیں ہوئی، جبکہ ریکوری کے اعداد ادارے کے بیان کردہ سرکاری دعووں کے طور پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔

