سندھ میں ایم پاکس کے مزید دو کیس رپورٹ ہونے کے بعد صوبے میں اب تک سامنے آنے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ تازہ کیسز کے بعد محکمہ صحت اور متعلقہ طبی اداروں نے نگرانی، مریضوں کی دیکھ بھال اور قریبی رابطوں کی جانچ کا عمل جاری رکھا ہے تاکہ ممکنہ مزید منتقلی کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔

ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ مواد یا بعض حالات میں آلودہ اشیا کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، جسم میں درد، سوجے ہوئے لمف نوڈز اور جلد پر مخصوص دانے شامل ہو سکتے ہیں۔ ہر مشتبہ مریض کی تشخیص صرف علامات کی بنیاد پر نہیں کی جاتی بلکہ طبی معائنہ اور ضرورت کے مطابق لیبارٹری تصدیق اہم ہوتی ہے۔

سندھ میں کیسز کی مجموعی تعداد میں اضافہ صحت حکام کے لیے نگرانی کی اہمیت کو بڑھاتا ہے، تاہم صرف مجموعی تعداد سے بیماری کی موجودہ رفتار یا ہر مریض کے فعال ہونے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ نئے کیسز، صحت یاب مریضوں، رابطوں اور جغرافیائی پھیلاؤ کی مکمل تصویر محکمہ صحت کے تفصیلی اعدادوشمار سے سامنے آتی ہے۔

عالمی سطح پر ایم پاکس کے مختلف پھیلاؤ کے بعد ممالک نے ایئرپورٹس، اسپتالوں اور متعدی امراض کی نگرانی کے نظام میں اس بیماری کو شامل کیا ہے۔ پاکستان میں بھی مشتبہ کیسز کی شناخت، ٹیسٹنگ اور رابطوں کی نگرانی کے لیے وفاقی اور صوبائی ادارے کام کرتے رہے ہیں۔ بیرون ملک سفر کی تاریخ بعض مریضوں میں ایک متعلقہ عامل ہو سکتی ہے، لیکن ہر کیس کو سفر سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔

صحت کے ماہرین عمومی طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ مشتبہ علامات کی صورت میں قریبی جسمانی رابطہ محدود کیا جائے اور طبی مشورہ لیا جائے۔ متاثرہ شخص کی استعمال شدہ اشیا کو دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کرنا اور صحت حکام کی ہدایات پر عمل کرنا منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تازہ رپورٹ کا تصدیق شدہ نکتہ سندھ میں دو مزید کیسز اور مجموعی رپورٹ شدہ تعداد کا 95 تک پہنچنا ہے۔ بیماری کی شدت، فعال مریضوں کی تعداد یا کسی مخصوص علاقے میں بڑے پیمانے کے پھیلاؤ سے متعلق اضافی نتیجہ صرف متعلقہ صحت حکام کے تفصیلی اعدادوشمار کی بنیاد پر اخذ کیا جانا چاہیے۔