پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے کے وفاقی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں ترقی، امن و امان اور ادارہ جاتی استعداد بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت ضروری تعاون فراہم کرے گی۔ یہ اعلان گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ایریا ڈویلپمنٹ کونسل اور قبائلی عمائدین کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے تک بھاری قربانیاں دی ہیں اور وفاق ان علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے وسائل مہیا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اسی روز خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، سکیورٹی انتظامات، پولیس کی تربیت اور انتظامی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور متعدد فیصلے کیے گئے۔
شہباز شریف نے صوبے میں گندم کی دستیابی کے مسئلے پر بھی وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کی جائے اور عام شہریوں تک گندم وفاق کی فراہم کردہ قیمت پر پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے، سی ٹی ڈی، کو مضبوط اور مؤثر بنانے اور خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دینے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومت کے سابقہ انتظامی ریکارڈ اور بعض منصوبوں کے حوالے سے بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے۔ یہ سیاسی نوعیت کے الزامات ہیں اور انہیں کسی عدالتی یا حتمی تحقیقاتی نتیجے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ رپورٹ شدہ خطاب میں وزیراعظم نے پینے کے پانی کے منصوبوں اور کوہستان سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے دعوے کیے اور کہا کہ عوامی وسائل کے غلط استعمال کو روکا جائے گا۔
160 ارب روپے کے اعلان کی منصوبہ وار تقسیم، اجرا کا مکمل شیڈول اور ہر منصوبے کے لیے مختص رقم کی تفصیلی فہرست فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس لیے پیکج کے عملی حجم اور رفتار کا تعین آئندہ سرکاری دستاویزات، بجٹ اجرا اور متعلقہ وزارتوں و صوبائی اداروں کی پیش رفت سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ بنیادی پیش رفت وفاقی حکومت کی جانب سے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان اور سکیورٹی و انتظامی منصوبوں کے لیے تعاون کی یقین دہانی ہے۔

