لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں بڑے رئیل اسٹیٹ اور تفریحی منصوبوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بلند عمارتوں کے لیے بڑے پلاٹس کی نیلامی، ایک ہزار ایکڑ پر نئے شہری علاقے اور 450 ایکڑ پر سفاری پارک قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ تفصیلات لاہور میں سعودی پاک رئیل اسٹیٹ ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے بتائیں۔
محسن نقوی کے مطابق اسلام آباد میں ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور رہائشی کمپلیکس کے لیے ایک، تین اور چھ ایکڑ کے پلاٹس پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں سے زمین کی پیشگی قیمت لینے کے بجائے حکومت منصوبے کی انوینٹری میں حصہ حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کرے گی، اور نیلامی 15 فیصد انوینٹری سے شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ عمارتوں کے لیے کم از کم 600 فٹ بلندی اور منظوری کے بعد دو سال کے اندر تعمیر مکمل کرنے کی شرائط رکھی جائیں گی۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ منظوری کا عمل وزارت داخلہ میں ون ونڈو نظام کے ذریعے تین سے چار ہفتوں میں مکمل کیا جا سکے گا۔ سرمایہ کاروں کو بعد میں انتظامی رکاوٹوں سے بچانے کے لیے پانچ رکنی نیلامی کمیٹی بنانے کی تجویز بھی بیان کی گئی، جس میں نیب، ایس آئی ایف سی، ایف آئی اے اور سی ڈی اے کے نمائندوں کے ساتھ ایک جج کو سربراہ بنانے کی بات کی گئی۔ یہ تفصیلات فی الحال وزیر کے اعلان اور مجوزہ انتظامی ڈھانچے سے متعلق ہیں؛ رپورٹ میں تمام منصوبوں کی حتمی قانونی منظوری یا تعمیراتی معاہدوں کی تکمیل کی تصدیق نہیں کی گئی۔
محسن نقوی نے وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں تقریباً ایک ہزار ایکڑ پر ’مین ہٹن طرز‘ کا نیا شہری منصوبہ بنانے کا بھی اعلان کیا، جس میں مرکزی پارک، جھیل اور ان کے اطراف رہائشی و تجارتی عمارتوں کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس علاقے کے لیے الگ قوانین، قواعد اور معیاری طریقۂ کار مرتب کرنے کا ارادہ ہے۔
اسی خطاب میں انہوں نے اسلام آباد میں 450 ایکڑ پر سفاری پارک بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا اور اسے ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک بنانے کا ہدف بیان کیا۔ حکومت ان منصوبوں کے ذریعے ملکی اور سعودی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی خواہاں ہے۔ تاہم منصوبوں کی عملی ٹائم لائن، مالی لاگت، ماحولیاتی منظوریوں اور زمین کی تفصیلی حیثیت سے متعلق مزید سرکاری دستاویزات سامنے آنے کے بعد ہی ان کے نفاذ کی مکمل تصویر واضح ہوگی۔

