پاکستان ریلوے کراچی سے روہڑی تک تقریباً 480 کلومیٹر نئی ریلوے پٹڑی بچھانے کے بڑے منصوبے پر 2027 میں تعمیراتی کام شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق منصوبے کا مقصد ملک کے اہم جنوبی ریل کوریڈور پر سفر کو محفوظ اور قابل اعتماد بنانا، پٹڑی کی حالت بہتر کرنا اور بار بار پیش آنے والے ڈی ریلمنٹ کے خطرات کم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے۔ کراچی اور روہڑی کے درمیان موجودہ مین لائن ملک کے مسافر اور مال بردار ریل نیٹ ورک کا بنیادی حصہ ہے، اس لیے اس حصے کی بہتری سے بندرگاہی شہر کراچی اور اندرون ملک ریل رابطوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔ نئی پٹڑی کے ساتھ متعلقہ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن بھی منصوبے کی مجموعی افادیت کے لیے اہم ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمی آئندہ سال شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں حتمی ٹائم لائن مالی بندوبست، ٹینڈرنگ، تکنیکی منظوریوں اور عملی تعمیراتی مراحل سے مشروط رہتی ہے، اس لیے اعلان کردہ تاریخ کو منصوبہ بندی کا ہدف سمجھا جانا چاہیے۔ منصوبے کے مکمل ہونے کی حتمی تاریخ اور مرحلہ وار تعمیراتی شیڈول متعلقہ سرکاری دستاویزات اور ٹھیکوں کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔
کراچی سے روہڑی سیکشن پاکستان ریلوے کی مین لائن ون کا اہم حصہ ہے۔ طویل عرصے سے پرانے ٹریک، رفتار کی پابندیوں اور دیکھ بھال کی ضروریات نے ریلوے کی کارکردگی اور حفاظتی معیار پر دباؤ ڈالا ہے۔ حکومت مختلف ادوار میں ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے لیے بیرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی شراکت داری کے امکانات پر کام کرتی رہی ہے، جبکہ موجودہ منصوبہ جنوبی حصے میں نئی پٹڑی کے ذریعے فوری آپریشنل مسائل کم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ریلوے کے لیے اس نوعیت کی سرمایہ کاری صرف مسافر ٹرینوں تک محدود نہیں رہتی۔ بہتر ٹریک سے مال بردار ٹرینوں کی رفتار، بندرگاہوں سے سامان کی اندرون ملک ترسیل اور لاجسٹکس کے اخراجات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم ان فوائد کا انحصار تعمیراتی معیار، سگنلنگ، رولنگ اسٹاک، دیکھ بھال اور پورے نیٹ ورک میں مربوط اصلاحات پر ہوگا۔ منصوبے کی پیش رفت کے ساتھ مالی ذرائع، خریداری کے طریقہ کار اور تعمیراتی اہداف سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات اہم ہوں گی۔

