لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں حکومت کی ملکیتی تمام قابل استعمال زمین پر گندم کی کاشت یقینی بنائی جائے۔ یہ ہدایت لاہور میں ان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی، جس میں گندم، آٹے اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کی قیمتوں اور رسد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے گندم اور آٹے کی غیر قانونی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے صوبائی سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس اقدام کا مقصد صوبے میں دستیاب ذخائر اور رسد پر دباؤ کم کرنا اور مارکیٹ میں قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے نمٹنا ہے۔ تاہم سرکاری رپورٹ میں اس مرحلے پر زیر کاشت لائی جانے والی مجموعی سرکاری اراضی کا رقبہ یا متوقع اضافی پیداوار کی مقدار نہیں بتائی گئی۔

اجلاس میں ضروری اشیا کی قیمتوں میں حالیہ تبدیلیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ دس بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری بیان میں تمام دس اشیا کی الگ الگ قیمتیں یا کمی کی شرح فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اس پیش رفت کو مجموعی حکومتی جائزے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

گندم پاکستان میں خوراکی تحفظ اور مہنگائی دونوں کے حوالے سے بنیادی جنس ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری زمین کو گندم کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ کتنی زمین بروقت کاشت کے لیے دستیاب ہوتی ہے، بیج اور دیگر زرعی وسائل کس طرح فراہم کیے جاتے ہیں اور فصل کی پیداوار کتنی رہتی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو احکامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔ یہ فیصلے انتظامی ہدایات ہیں؛ ان کے نتیجے میں پیداوار، رسد یا قیمتوں میں ہونے والی حتمی تبدیلی آئندہ فصل اور مارکیٹ کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔