پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس کے تحت حفاظتی گرفتاری اور حراست کے اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی ہدایت پر کیا گیا اور اس کا اطلاق صوبے بھر میں فوری طور پر ہوگا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق West Pakistan Maintenance of Public Order Ordinance 1960 کی دفعہ 3(1) کے تحت موجود اختیار اب ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو دیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت مخصوص حالات میں کسی شخص کو حفاظتی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔ یہ سزا یافتہ ہونے کے بعد کی قید نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کی preventive detention ہے، جس کی قانونی حیثیت اور استعمال عدالتی جانچ کے تابع رہتے ہیں۔
اس سے قبل یہ خصوصی اختیار ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم کے پاس تھا۔ صوبائی حکومت کے مطابق اختیارات کو ضلعی سطح تک منتقل کرنے کا مقصد امن و امان سے متعلق صورتحال میں انتظامی تاخیر کم کرنا اور ضلعی انتظامیہ و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فوری رابطہ ممکن بنانا ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو دیے گئے اختیارات آئین اور قانون کے مطابق استعمال ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ضلعی حکام سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کرنے کی توقع ظاہر کی۔ گورنر نے واضح کیا کہ ان اختیارات کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
یہ اقدام قانونی پس منظر کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ پشاور ہائی کورٹ ماضی میں MPO کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری بعض حراستی احکامات کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ مئی 2023 میں عدالت نے 9 مئی کے احتجاج سے متعلق بعض افراد کی گرفتاری کے احکامات پر فیصلہ دیا تھا، جبکہ MPO کے اختیارات اور انتظامی حراست کے قانونی دائرے پر عدالتوں میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
موجودہ نوٹیفکیشن ایک نئی صوبہ گیر انتظامی تفویض ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص شخص کو لازماً حراست میں لیا گیا ہے۔ اس خبر کا تصدیق شدہ بنیادی نکتہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو دفعہ 3(1) کے اختیارات منتقل کرنا ہے۔ مستقبل میں کسی انفرادی حراستی حکم کی قانونی حیثیت متعلقہ حقائق، وجوہات اور عدالتی نگرانی کے مطابق الگ جانچی جا سکتی ہے۔

