چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہیں خیبر پختونخوا میں موجودہ سکیورٹی صورتحال، جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں، سرحدی انتظام اور تعینات فارمیشنز کی آپریشنل تیاری کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ یہ معلومات فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان سے منسوب ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فوجی بیان میں سرحدی علاقوں کی نگرانی، مختلف آپریشنل فارمیشنز کی تیاری اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لینے کا ذکر کیا گیا۔ بیان میں ان کارروائیوں کی مخصوص جگہوں یا مستقبل کے آپریشنل منصوبوں کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور پولیس و سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات قومی سطح پر سیاسی اور سلامتی کے مباحث کا مرکز ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز سرچ، انٹیلی جنس اور کلیئرنس کارروائیاں کر رہی ہیں۔ کرک سمیت بعض علاقوں میں حالیہ واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانیں بھی گئی ہیں۔
فوجی قیادت کی پشاور میں بریفنگ میں بارڈر مینجمنٹ کا شامل ہونا پاکستان کی مغربی سرحد سے متعلق مسلسل سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام آباد بارہا افغان حکام سے مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ افغان طالبان حکومت پاکستانی الزامات کے مختلف پہلوؤں کی تردید کرتی رہی ہے، اس لیے سرحد پار گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق دعووں کو متعلقہ فریقوں کے مؤقف کے ساتھ منسوب کرنا ضروری ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں فیلڈ مارشل نے فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تیاری اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔ بیان میں بعض مسلح گروہوں کے بیرونی روابط سے متعلق بھی فوج کا مؤقف دہرایا گیا، تاہم ایسے الزامات کو پاکستانی فوج کے سرکاری دعوے کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
دورے سے کوئی نئی قانون سازی یا الگ فوجی آپریشن باضابطہ طور پر شروع کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ تصدیق شدہ پیش رفت کور ہیڈکوارٹر پشاور میں اعلیٰ سطح کی سکیورٹی بریفنگ اور جاری انسداد دہشت گردی، سرحدی انتظام اور آپریشنل تیاری کا جائزہ ہے۔

