حافظ آباد ضلع میں پنڈی بھٹیاں کے قریب ایک مسافر بس بے قابو ہو کر نالے میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بس لاہور سے چنیوٹ جا رہی تھی اور حادثہ فتح کی ڈرین پل کے قریب پیش آیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق بس یوٹرن لیتے ہوئے بے قابو ہوئی۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ ڈرائیور کے مبینہ طور پر اونگھ جانے کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، تاہم کسی حتمی ذمہ داری یا تکنیکی سبب کا تعین متعلقہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ حادثے کی اطلاع علی الصبح تقریباً 4 بج کر 20 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد پنڈی بھٹیاں سے امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ کی گئیں۔

امدادی کارکنوں نے زخمی مسافروں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں انہیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کیا۔ جاں بحق افراد کی میتیں بھی اسی اسپتال پہنچائی گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق بس کو نالے سے نکالنے کے لیے مقامی حکومت کی مدد سے کرین کا انتظام کیا گیا اور بعد میں امدادی کارروائی مکمل کر لی گئی۔

مختلف ابتدائی میڈیا رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد میں فرق سامنے آیا، تاہم بزنس ریکارڈر نے ریسکیو 1122 کے حوالے سے 20 زخمیوں کی تصدیق کی، جبکہ دیگر ذرائع نے اس سے زیادہ تعداد بتائی۔ اسی لیے حتمی تعداد کے لیے سرکاری ریسکیو ریکارڈ کو بنیادی حوالہ سمجھا جا رہا ہے۔ حادثہ ایک بار پھر بین الاضلاعی مسافر ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور کی تھکن، سڑک پر محفوظ موڑ کاٹنے اور ہنگامی ردعمل جیسے عوامل کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، تاہم اس واقعے کے مخصوص اسباب پر کسی نتیجے کے لیے باضابطہ تحقیقات ضروری ہوں گی۔