اسلام آباد: وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے نجی حج سکیم 2027 کے تحت پیکیج منتخب کرنے اور ادائیگی مکمل کرنے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کر دی ہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق مقررہ تاریخ تک نجی شعبے کا حصہ استعمال نہ ہونے کی صورت میں حکومت کو غیر استعمال شدہ کوٹا دوبارہ مختص کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔

یہ نجی حج آپریٹرز اور عازمین کے لیے نئی چار سالہ حج پالیسی کے تحت پہلی بڑی عملی آخری تاریخ ہے۔ وفاقی کابینہ نے جولائی میں 2027 سے 2030 تک کے حج موسموں کے لیے پالیسی منظور کی تھی، جس نے ہر سال الگ بنیادی فریم ورک جاری کرنے کے سابق طریقے کی جگہ نسبتاً طویل مدتی انتظام متعارف کرایا۔ البتہ ہر سال کے سعودی ضوابط، خدمات، پروازوں اور عملی شیڈول کی تفصیل الگ طور پر طے ہو گی۔

سعودی عرب نے حج 2027 کے لیے پاکستان کو 179,210 عازمین کا مجموعی کوٹا دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس میں 107,526 نشستیں سرکاری سکیم اور 71,684 نجی آپریٹرز کے لیے مختص ہیں۔ کوٹے کی تقسیم انتظامی حد ہے؛ محض رقم جمع کرانا حتمی ویزا، پرواز یا سعودی اجازت کی ضمانت نہیں، کیونکہ عازم کو شناخت، صحت، دستاویزات اور متعلقہ سعودی و پاکستانی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔

وزارت نے کہا ہے کہ نجی سکیم کے 16 بنیادی پیکیج حتمی شکل پا چکے ہیں، جن کی قیمت 14 لاکھ روپے سے شروع ہو کر 37 لاکھ 50 ہزار روپے تک جاتی ہے۔ قیمت میں فرق قیام کی مدت، مکہ و مدینہ میں ہوٹل کے مقام اور معیار، مکتب کی قسم، ٹرانسپورٹ، کھانے، پرواز اور اضافی خدمات سے پیدا ہو سکتا ہے۔ عازمین کو ادائیگی سے پہلے منتخب پیکیج کی تحریری تفصیل، شامل اور غیر شامل سہولتیں، منسوخی کی شرائط اور آپریٹر کی منظوری ضرور دیکھنی چاہیے۔

نجی سکیم میں نسبتاً مختصر قیام، پاکستان سے باہر سے براہ راست پرواز اور پانچ ستارہ ہوٹل جیسے آپشن بھی رکھے گئے ہیں۔ یہ سہولتیں تمام 16 پیکیجوں میں یکساں طور پر شامل نہیں سمجھی جا سکتیں۔ ہر حاجی کے لیے اصل معاہدہ وہی ہو گا جو سرکاری پورٹل پر منتخب آپریٹر اور پیکیج کے ساتھ درج ہو، اس لیے اشتہار یا زبانی وعدے کو پورٹل کی تفصیل سے ملانا ضروری ہے۔

وزارت مذہبی امور نے واضح ہدایت دی ہے کہ نجی عازم پیکیج صرف سرکاری حج پورٹل یا پاک حج موبائل ایپ کے ذریعے منتخب کریں اور ادائیگی بھی اسی منظور شدہ نظام سے کریں۔ ترجمان کے مطابق کسی فرد یا کمپنی کو براہ راست رقم دینے سے نقصان ہو تو وزارت ذمہ دار نہیں ہو گی۔ اس تنبیہ کا مقصد غیر منظور شدہ آپریٹر، جعلی رسید اور پورٹل سے باہر مالی لین دین کے خطرے کو کم کرنا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ بیشتر منظور شدہ حج کمپنیاں اپنے پیکیج ڈیجیٹل پورٹل پر اپ لوڈ کر چکی ہیں اور بکنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم “بیشتر” کا مطلب یہ نہیں کہ ہر لائسنس یافتہ کمپنی نے مکمل تفصیل جمع کرا دی ہے۔ عازم کو کمپنی کا موجودہ اجازت نامہ، پیکیج کوڈ، ادائیگی کا سرکاری ریکارڈ اور وزارت کی شکایت سہولت محفوظ رکھنی چاہیے۔

نئی پالیسی میں نجی شعبے کی نگرانی اس پس منظر میں سخت کی گئی ہے کہ 2025 کے حج انتظامات میں پاکستانی نجی آپریٹرز سعودی ادائیگی اور سروس معاہدوں کی بعض آخری تاریخیں پوری نہ کر سکے تھے۔ نتیجتاً نجی کوٹا 89,801 سے کم ہو کر تقریباً 25 ہزار رہ گیا اور 67 ہزار سے زیادہ متوقع عازم سفر نہ کر سکے۔ یہ سابقہ واقعہ موجودہ پالیسی میں پیشگی ادائیگی، ڈیجیٹل ریکارڈ اور کوٹا دوبارہ مختص کرنے کی شقوں کی اہمیت بڑھاتا ہے۔

سرکاری حج سکیم کے بارے میں وزارت نے کہا کہ 13 ہزار سے زیادہ عازم اب تک تقریباً 8.7 ارب روپے جمع کرا چکے ہیں۔ یہ عدد نجی سکیم کی 20 نومبر آخری تاریخ سے الگ ہے اور دونوں نظاموں کے قواعد، قیمتیں اور خدمات مختلف ہو سکتی ہیں۔

عازمین کے لیے اگلا قابل تصدیق مرحلہ سرکاری پورٹل پر آپریٹر اور پیکیج کا انتخاب، نظام کے اندر ادائیگی کی رسید، طبی و شناختی شرائط کی تکمیل اور بعد میں وزارت کی جانب سے پرواز و ویزا شیڈول کا اجرا ہو گا۔ 20 نومبر کی تاریخ بنیادی طور پر نجی پیکیج انتخاب اور ادائیگی کے لیے ہے، حج سفر کی حتمی روانگی یا ویزا جاری ہونے کی تاریخ نہیں۔