مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کی نئی آٹھ رکنی کابینہ نے جمعہ 4 ستمبر کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب صدر ہاؤس مظفرآباد میں منعقد ہوئی، جہاں قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے وزرا سے حلف لیا۔ اس مرحلے کے ساتھ مسلم لیگ ن کی قیادت میں قائم نئی حکومت کا ابتدائی انتظامی ڈھانچہ مکمل ہو گیا ہے، تاہم وزرا کے قلم دان ابھی مختص نہیں کیے گئے۔

حلف اٹھانے والوں میں سردار میر اکبر خان، وقار نور، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، چوہدری اظہر صادق، ثاقب مجید راجا، راجا ریاست، عمیر نعیم اور عبدالرحمان آرائیں شامل ہیں۔ تقریب میں نومنتخب وزیر اعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی، مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، قانون ساز اسمبلی کے ارکان، اعلیٰ سرکاری افسران اور شہریوں نے شرکت کی۔

وزرا نے آئین اور قانون کے مطابق ذمہ داریاں ادا کرنے اور عوامی بہبود کے لیے کام کرنے کا حلف اٹھایا۔ سرکاری اطلاع کے مطابق کابینہ کی تشکیل کے بعد نئی حکومت کے محکموں اور پالیسی امور پر باقاعدہ انتظامی کام شروع ہو سکے گا۔ قلم دانوں کی تقسیم سے متعلق الگ اعلان آنے کی توقع ہے، اس لیے فی الحال کسی وزیر کو مخصوص محکمہ دینے کی اطلاع مصدقہ طور پر جاری نہیں ہوئی۔

افتخار گیلانی نے 28 اگست کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم کا منصب سنبھالا تھا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 53 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو اپنے اتحادیوں، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی دست و بازو، سمیت 32 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس 14 ووٹ ہیں۔ یہ عددی صورت حال نئی حکومت کو اسمبلی میں اکثریتی حمایت فراہم کرتی ہے۔

نئی کابینہ کا حجم آٹھ ارکان تک محدود رکھا گیا ہے۔ حلف برداری سے قبل حکومت کے قیام کا سیاسی مرحلہ مکمل ہو چکا تھا، لیکن روزمرہ حکومتی فیصلوں، محکموں کی نگرانی، بجٹ پر عمل درآمد اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے کابینہ کی باقاعدہ تشکیل ضروری تھی۔ اب اگلا اہم انتظامی قدم قلم دانوں کی تقسیم اور ہر وزارت کی ترجیحات کا اعلان ہوگا۔

تقریب کے بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم افتخار گیلانی نے کی اور شاہ غلام قادر نے شرکت کی۔ دستیاب اطلاعات میں اجلاس کے تفصیلی فیصلے جاری نہیں کیے گئے، اس لیے خبر کا مصدقہ دائرہ کابینہ کی حلف برداری، ارکان کے نام، پارلیمانی حمایت اور قلم دانوں کی آئندہ تقسیم تک محدود ہے۔

آزاد کشمیر کی نئی حکومت کے لیے انتظامی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی خدمات اور اسمبلی میں اتحادی نظم برقرار رکھنا ابتدائی چیلنج ہوں گے۔ تاہم ان شعبوں میں کسی نئی پالیسی یا ہدف کا باضابطہ اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔ کابینہ کے ارکان کی محکمانہ ذمہ داریاں واضح ہونے کے بعد ہی حکومت کے عملی ایجنڈے اور ترجیحات کی مکمل تصویر سامنے آ سکے گی۔