اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے نارووال کے اڈا سراج میں ایک صدی سے زیادہ پرانے ہندو مندر کو جان بوجھ کر گرائے جانے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’غلط اور سیاسی محرکات پر مبنی‘‘ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے میڈیا سوالات کے جواب میں کہا کہ عمارت 21 جولائی 2026 کو موسلا دھار بارش کے باعث متاثر ہوئی تھی اور مقامی انتظامیہ بحالی کے اقدامات شروع کر چکی ہے۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ دستیاب خبر میں کسی آزاد تکنیکی معائنے یا عدالتی فیصلے کی تفصیل موجود نہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ نے 2 ستمبر کو مندر کے مبینہ انہدام کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی اور اسے صدی پرانی اقلیتی عبادت گاہ کے خلاف تخریب کاری قرار دیا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس تعبیر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت واقعے کے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم سفارتی مؤقف ہیں اور ان میں استعمال ہونے والی الزاماتی زبان کو کسی غیر جانب دار حتمی نتیجے کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ کے مطابق شدید بارش سے مندر کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے بعد مقامی حکام نے مقام کا سروے کیا اور عمارت کی بحالی کے لیے اقدامات کا آغاز کیا۔ بیان میں سروے کی مکمل تکنیکی رپورٹ، تعمیراتی نقصان کی پیمائش، بحالی کا بجٹ یا کام مکمل ہونے کی تاریخ جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے بحالی کی موجودہ رفتار اور عمارت کے کن حصوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، اس بارے میں مزید سرکاری دستاویزات درکار ہوں گی۔
دوسری جانب ایک اقلیتی حقوق گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمارت بارش سے خود نہیں گری بلکہ اسے ملحقہ مدرسے کی توسیع کے لیے جان بوجھ کر منہدم کیا گیا۔ یہ گروپ کا الزام ہے اور زیرِ نظر رپورٹ میں اس کی آزادانہ تصدیق کرنے والی کوئی فرانزک، انجینئرنگ یا عدالتی یافت سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح پاکستانی حکام کی بارش والی وضاحت بھی سرکاری بیان کی حیثیت رکھتی ہے، جسے دستیاب آزاد معائنے کے بغیر قطعی تکنیکی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مندر کی مذہبی اور تاریخی نوعیت کے باعث واقعہ اقلیتی عبادت گاہوں کے تحفظ اور پاکستان بھارت سفارتی بیان بازی دونوں سے جڑ گیا ہے۔ ریاستی اداروں پر ذمہ داری ہے کہ وہ عبادت گاہ کی حفاظت، نقصان کی شفاف جانچ اور بحالی کے عمل سے متعلق قابلِ تصدیق معلومات فراہم کریں، جبکہ کسی بھی فریق کے الزام کا قانونی تعین شواہد اور باقاعدہ تحقیق سے ہی ہو سکتا ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ بھارت نے 2 ستمبر کو اعتراض اٹھایا، پاکستان نے 4 ستمبر کو اسے مسترد کیا، دفتر خارجہ نے نقصان کی تاریخ 21 جولائی اور وجہ موسلا دھار بارش بتائی، اور مقامی حکام کی جانب سے سروے و بحالی شروع ہونے کا اعلان کیا گیا۔ مندر کے نقصان کی حتمی وجہ سے متعلق آزاد رپورٹ یا مکمل بحالی کی تصدیق ابھی دستیاب نہیں۔




