چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹری کراچی میں عدالتی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات پر سندھ کی عدلیہ اور قانونی برادری کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ 2 ستمبر 2026 کے سرکاری بیان کے مطابق اجلاس کا مقصد کراچی اور سندھ میں عدالتی سہولتوں سے متعلق مختلف تجاویز پر بار کی رائے حاصل کرنا اور اسے منصوبہ بندی و عمل درآمد کے عمل میں شامل کرنا تھا۔ یہ کارروائی انتظامی مشاورت تھی، کسی مقدمے کا عدالتی فیصلہ یا حکم نہیں۔

اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار و انتظامی کمیٹی کے نمائندے شریک ہوئے۔ زیر بحث موضوعات میں عدالتی انفراسٹرکچر مضبوط بنانا، عدالتوں میں بنیادی سہولتیں بہتر کرنا، خواتین کے لیے سہولت مراکز قائم کرنا، بعض عدالتوں کو مناسب عمارتوں میں منتقل کرنا اور موجودہ عدالتی ڈھانچے کی تعمیر و اپ گریڈنگ شامل تھے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق ان اقدامات سے متعلق مختلف آپشنز بار نمائندوں کے سامنے رکھے گئے تاکہ وکلا، سائلین اور دیگر عدالتی صارفین کی عملی ضروریات منصوبہ بندی میں شامل ہوسکیں۔ تاہم بیان میں کسی مخصوص عمارت، ضلع یا عدالت کی منتقلی کی حتمی منظوری، منصوبے کی لاگت، زمین، تعمیراتی معاہدے یا تکمیل کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ اس لیے اجلاس کو منصوبوں کی منظوری یا تعمیر کے آغاز کے بجائے تجاویز پر مشاورت کے مرحلے کے طور پر بیان کرنا درست ہوگا۔

خواتین سہولت مراکز کا قیام زیر غور اہم اقدامات میں شامل تھا، لیکن اعلامیے میں ان مراکز کی جگہ، تعداد، عملہ یا فراہم کی جانے والی خدمات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ ان کی عملی افادیت کا جائزہ تب ممکن ہوگا جب متعلقہ ادارے واضح ڈیزائن، رسائی، رازداری، معاونت اور شکایت یا رہنمائی کے طریقۂ کار جاری کریں گے۔ فی الحال صرف یہ تصدیق ہوئی ہے کہ ایسے مراکز عدالتی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ زیر بحث آئے۔

عدالتوں کو موزوں عمارتوں میں منتقل کرنے کی تجویز بھی انتظامی اور شہری سہولت کے اعتبار سے اہم ہوسکتی ہے، کیونکہ مقام کی تبدیلی وکلا، سائلین، عدالتی عملے، ریکارڈ کی منتقلی اور روزمرہ سماعتوں پر اثر ڈالتی ہے۔ اسی لیے بار نمائندوں کی شمولیت کو اجلاس میں ضروری قرار دیا گیا۔ لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن عدالتوں کی منتقلی زیر غور ہے یا موجودہ عمارتوں میں کون سی کمی اس تجویز کی بنیاد بنی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتی اصلاح یا ترقیاتی اقدام وسیع مشاورت، اتفاق رائے اور متعلقہ فریقوں، خصوصاً بار، کی فعال شرکت کے بغیر مطلوبہ مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق قانونی برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ اصلاحات کو عملی، جامع اور سائلین و عدالتی صارفین کی ضروریات کے مطابق رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ بار نمائندوں نے تجاویز پر اپنی آرا دیں اور سپریم کورٹ و سندھ ہائی کورٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

بینچ اور بار نے مشاورت اور قریبی رابطے کے ذریعے سندھ میں زیادہ قابل رسائی، مؤثر اور شہری ضرورتوں کے مطابق عدالتی ادارے بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ مشترکہ عزم پالیسی اور ادارہ جاتی سمت ہے؛ اس کے قابلِ پیمائش نتائج کے لیے منصوبہ وار منظوری، بجٹ، خریداری، تعمیر، منتقلی اور خدمات کے معیار کی بعد کی اطلاعات درکار ہوں گی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت کراچی میں مشاورتی اجلاس، سندھ ہائی کورٹ اور بار نمائندوں کی شرکت اور خواتین سہولت مراکز، عدالتوں کی منتقلی اور انفراسٹرکچر اپ گریڈنگ کے آپشنز پر گفتگو ہے۔ کسی منصوبے کو حتمی طور پر منظور، فنڈ شدہ یا مکمل قرار دینے کے لیے دستیاب بیان میں کافی معلومات موجود نہیں۔