اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران این-25 کراچی–کوئٹہ–چمن شاہراہ کی اپ گریڈیشن سمیت بلوچستان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری اور مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لیا۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 3 ستمبر 2026 کے اعلامیے کے مطابق این-25 منصوبے کی بیان کردہ لاگت 415 ارب روپے ہے اور وفاقی حکومت اسے ’’پاکستان ایکسپریس وے‘‘ کے نام سے پیش کر رہی ہے۔
سرکاری بیان میں عبدالعلیم خان نے این-25 کو بلوچستان اور وسیع تر خطے کے لیے اہم مواصلاتی و تجارتی راستہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ایکسپریس وے کی تکمیل سے کراچی اور کوئٹہ کے درمیان سفر کا وقت کم ہوگا۔ یہ منصوبے کے متوقع فوائد سے متعلق حکومتی مؤقف ہے؛ جاری اعلامیے میں موجودہ اوسط سفر کے وقت، متوقع کمی، ٹریفک حجم یا کسی آزاد معاشی جائزے کی تفصیل نہیں دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی سیکریٹری مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین بھی شریک تھے۔ شرکا نے بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں، صوبے میں این ایچ اے کے دیگر منصوبوں اور خصوصاً ژوب بائی پاس کی تعمیر پر بھی گفتگو کی۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزارت اور این ایچ اے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، تاہم ہر منصوبے کی الگ جسمانی پیش رفت، ٹھیکوں کی موجودہ حیثیت یا پیکیج وار ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔
گورنر جعفر خان مندوخیل نے این-25 کو ترجیح دینے پر وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور بلوچستان کے ٹرانزٹ نیٹ ورک میں این ایچ اے کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے صوبے کے بنیادی مواصلاتی راستوں کی بہتری کو مقامی آبادی کے لیے مفید قرار دیا۔ یہ بیان انتظامی اور پالیسی سطح کی حمایت کی عکاسی کرتا ہے، مگر اس ملاقات میں کسی نئے مالی معاہدے، اضافی بجٹ یا تعمیراتی پیکیج کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔
415 ارب روپے کا عدد سرکاری اعلامیے میں این-25 اپ گریڈ کی منصوبہ لاگت کے طور پر دیا گیا ہے۔ اسے اب تک خرچ شدہ رقم، فوری طور پر جاری ہونے والی ادائیگی یا مکمل مالی بندوبست کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔ دستیاب تفصیل میں وفاقی و صوبائی حصص، غیر ملکی یا مقامی فنانسنگ، زمین کے حصول، تعمیراتی پیکیجز اور سالانہ مختص رقوم کا مکمل بریک ڈاؤن شامل نہیں۔
اسی طرح اجلاس میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، لیکن اعلامیے نے پورے کراچی–کوئٹہ–چمن راستے کی حتمی تکمیل تاریخ، مختلف حصوں کی افتتاحی تاریخ یا کام کا مجموعی فیصد بیان نہیں کیا۔ لہٰذا مصدقہ پیش رفت اعلیٰ سطح کی مشاورت، این-25 کی 415 ارب روپے بیان کردہ لاگت، منصوبے کی سرکاری ترجیح اور ژوب بائی پاس سمیت دیگر شاہراہوں کے جائزے تک محدود ہے۔ آئندہ مالی منظوریوں، ٹینڈرز اور تعمیراتی اہداف کی حتمی حیثیت متعلقہ وزارت، این ایچ اے اور سرکاری بجٹ دستاویزات سے واضح ہوگی۔




