کراچی: سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم، موجودہ جغرافیائی حدود میں تبدیلی، اس کے علاقے سے نیا صوبہ بنانے یا کسی حصے کو الگ وفاقی انتظام کے تحت رکھنے کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد 3 ستمبر کو حزبِ اختلاف کے احتجاج اور بائیکاٹ کے دوران منظور ہوئی، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

منظور شدہ متن میں کہا گیا کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام پر ایک نئی عوامی بحث شروع ہوئی ہے اور بعض تجاویز سندھ کی موجودہ علاقائی حدود پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ ایوان نے ہر ایسے منصوبے، تجویز، اسکیم یا آئینی بندوبست کو مسترد کیا جو سندھ کو تقسیم کرے، اس کی حدود بدلے یا اس کے کسی حصے سے نیا صوبہ بنائے۔ قرارداد میں صوبے کے کسی حصے کو علیحدہ یا وفاقی انتظامی بندوبست میں دینے کی مخالفت بھی کی گئی۔

قرارداد نے وفاقی حکومت، پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ سندھ کے عوام کی بار بار ظاہر کی گئی جمہوری رائے کا احترام کیا جائے۔ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو کی پیش کردہ التوائے کار تحریک پر نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے موضوع پر کئی روز بحث ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے ایوان میں مؤقف اختیار کیا کہ منتخب صوبائی اسمبلی کی رضامندی کے بغیر سندھ کی حدود بدلنے کی کوئی کوشش ناقابلِ قبول ہوگی۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور جماعتِ اسلامی کے ارکان قرارداد پیش ہونے سے پہلے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ حکومتی بنچوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے تجویز کردہ تین نکات قرارداد میں شامل نہیں کیے، جن کا تعلق موجودہ انتظامی اکائیوں کو اختیار دینے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان قرارداد پیش ہونے کے وقت ایوان میں موجود نہیں تھے۔

علی خورشیدی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حزبِ اختلاف سندھ کی تقسیم کے خلاف اصولی اتفاق رکھتی ہے اور بار بار اسی موضوع پر قراردادیں لانے سے حکمرانی کے مسائل سے توجہ ہٹتی ہے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کا مطالبہ نیا صوبہ بنانا نہیں بلکہ صوبائی مالیاتی کمیشن کے ذریعے سندھ کی موجودہ چھ ڈویژنوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیار دینا ہے۔ انہوں نے کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد اور لاڑکانہ سمیت موجودہ ڈویژنوں کو بااختیار بنانے کی بات کی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے جواب میں کہا کہ حکومتی جماعت نے نئی انتظامی اکائیوں اور اختیارات کی منتقلی سے متعلق اضافی نکات کو الگ قرارداد کا موضوع بنانے کی پیشکش کی تھی، کیونکہ قواعد کے تحت ایک قرارداد کو ایک بنیادی موضوع تک محدود رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان پر متضاد مؤقف اپنانے کا الزام بھی لگایا۔ یہ سیاسی الزام ہے، جسے حزبِ اختلاف نے قبول نہیں کیا۔

قرارداد سندھ اسمبلی کی اجتماعی سیاسی پوزیشن کو ریکارڈ کرتی ہے؛ یہ بذاتِ خود ملک بھر میں صوبائی حدود یا مقامی حکومتوں کے آئینی و قانونی ڈھانچے میں فوری تبدیلی نہیں کرتی۔ کسی صوبے کی سرحد، نئے صوبے یا انتظامی نظام سے متعلق عملی تبدیلی کے لیے آئینی اور پارلیمانی طریقۂ کار درکار ہوگا۔ تازہ پیش رفت کا مصدقہ نتیجہ یہ ہے کہ سندھ اسمبلی نے تقسیم اور حدود میں تبدیلی کے خلاف متن منظور کیا، جبکہ اپوزیشن کی دو جماعتوں نے طریقۂ کار اور اپنی تجاویز شامل نہ ہونے پر ووٹنگ سے پہلے بائیکاٹ کیا۔