اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے واپڈا سکیورٹی فورس بل 2026 کی منظوری ایک مرتبہ پھر مؤخر کر دی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے مجوزہ فورس کو واپڈا منصوبوں اور تنصیبات کے ایک کلومیٹر دائرے میں افراد کو حراست میں لینے کا اختیار دینے پر مزید وضاحت مانگی۔ بحث کے بعد بل منظور یا مسترد کرنے کے بجائے اسے اگلے اجلاس تک مؤخر کیا گیا، اس لیے مجوزہ اختیارات ابھی قانون کا حصہ نہیں بنے۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین احمد عتیق انور کی صدارت میں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان سید جاوید علی شاہ جیلانی، صبا تالپور اور ذوالفقار علی بہن نے بل کی فوری منظوری کی مخالفت کی۔ جاوید علی شاہ جیلانی نے مؤقف اختیار کیا کہ واپڈا اہلکاروں کو گرفتاری یا حراست کے اختیارات نہیں ملنے چاہییں، جبکہ پارٹی ارکان نے کہا کہ وہ مجوزہ قانون کی بعض شقوں پر اپنی قیادت کو مکمل بریفنگ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر آبی وسائل کو بھی مناسب سیاسی رابطے کے ذریعے معاملہ پارٹی قیادت کے سامنے رکھنے کی تجویز دی۔
واپڈا کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کمیٹی کو بتایا کہ مجوزہ فورس کا بنیادی مقصد قومی آبی و بجلی منصوبوں، منتشر تنصیبات اور وہاں کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی اہلکاروں کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق واپڈا منصوبوں پر ایک سو سے زیادہ حملوں یا سکیورٹی واقعات کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جبکہ موجودہ واپڈا ایکٹ 1958 میں داخلی سکیورٹی انتظام کے قیام، دائرۂ اختیار، اختیارات اور افعال کے لیے واضح قانونی شقیں موجود نہیں۔ یہ اعداد و جواز واپڈا حکام کی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کا حصہ ہیں۔
مجوزہ حراست اختیار پر واپڈا کا کہنا تھا کہ اسے منصوبے یا تنصیب کے اندر اور اطراف میں غیر مجاز داخلے اور سکیورٹی سے متعلق واقعات تک محدود رکھا جائے گا۔ وزارتِ قانون کی ٹیم نے کمیٹی کو بتایا کہ بل منظور ہونے کی صورت میں کسی بھی حراست کا عمل ضابطۂ فوجداری کے مطابق ہوگا اور ایک کلومیٹر دائرے میں پکڑے گئے شخص کو فوری طور پر پولیس کے حوالے کرنا لازم ہوگا۔ اس وضاحت کے باوجود ارکان نے قانونی حدود، نگرانی اور اختیار کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق تحفظات دور کرنے کے لیے مزید غور پر زور دیا۔
کمیٹی میں مجوزہ ادارے کے نام میں لفظ ”فورس“ کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ بعض ارکان نے سپریم کورٹ کے ان احکامات کا حوالہ دیا جن میں نجی سکیورٹی ایجنسیوں کے نام میں یہ لفظ استعمال کرنے پر پابندی کا ذکر ہے۔ وزارتِ قانون کے نمائندوں نے جواب دیا کہ وہ عدالتی پابندی نجی اداروں سے متعلق تھی اور ریاستی قانون کے تحت قائم سکیورٹی ادارے اس سے مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ قانونی تشریح بھی ابھی پارلیمانی غور کا حصہ ہے؛ حتمی حیثیت منظور شدہ متن اور متعلقہ قانونی جانچ سے طے ہوگی۔
واپڈا نے دلیل دی کہ مستقل داخلی فورس کا انتظام دوسرے سکیورٹی اداروں، حتیٰ کہ فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کے مقابلے میں کم خرچ ہو سکتا ہے۔ الگ فورس بنانے کا پس منظر داسو پن بجلی منصوبے کے کارکنوں اور انجینئروں پر 2021 اور 2024 کے مہلک حملوں سمیت بڑے منصوبوں کو لاحق خطرات بتایا گیا ہے۔ تاہم کسی ضرورت کا بیان خود بل کی منظوری نہیں؛ پارلیمان کو اختیار، احتساب، تربیت، پولیس سے رابطے اور شہری حقوق کی ضمانتوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اجلاس نوٹس میں واپڈا سکیورٹی فورس بل باقاعدہ ایجنڈے میں شامل تھا، مگر کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد غور اگلے اجلاس تک ملتوی کر دیا۔ اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ کمیٹی کی دوبارہ کارروائی، ممکنہ ترامیم اور سفارش ہوگا۔ اس کے بعد بھی بل کو پارلیمانی منظوری اور دیگر آئینی مراحل مکمل کرنا ہوں گے؛ فی الحال واپڈا سکیورٹی فورس کے مجوزہ گرفتاری یا حراست اختیارات نافذ نہیں ہوئے۔




