لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 ستمبر کو تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں 21 روزہ جسمانی ریمانڈ پر لاہور پولیس کے حوالے کر دیا۔ سرور روڈ پولیس نے انہیں سخت سکیورٹی میں عدالت کے سامنے پیش کیا، جہاں تفتیشی افسر نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 21 روزہ ریمانڈ منظور کیا۔
کیس کا تعلق 9 مئی 2023 کے واقعات سے ہے، جب سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کے واقعات ہوئے تھے۔ لاہور میں جناح ہاؤس پر حملے کے مقدمے میں متعدد سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو نامزد یا گرفتار کیا گیا۔ حماد اظہر کے خلاف کارروائی بھی اسی قانونی سلسلے کا حصہ ہے، تاہم ان کے خلاف الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور مقدمہ زیر تفتیش ہے۔
دفاع کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر تین برس کے دوران ضروری کارروائی مکمل نہیں کر سکا اور ریکارڈ پر ایسا مواد موجود نہیں جو طویل جسمانی ریمانڈ کا جواز بنے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ حماد اظہر کی شناختی پریڈ نہیں کرائی گئی اور انہیں چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ دفاع نے مؤقف اپنایا کہ شریک ملزم کے بیان کی بنیاد پر ان کے موکل کو مقدمے میں شامل کرنا کافی نہیں۔
عدالت نے سماعت کے دوران پولیس کو ہدایت کی کہ حماد اظہر کے ساتھ مناسب اور قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ جج نے تفتیشی عمل میں انسانی وقار اور قانونی تقاضوں کی پابندی کی اہمیت پر زور دیا۔ پولیس نے زیادہ مدت کی تحویل مانگی تھی، تاہم عدالت نے 21 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔
اس سے قبل حماد اظہر کی والدہ نے لاہور ہائیکورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی، جس میں ان کی بازیابی کی استدعا کی گئی۔ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ حماد اظہر کو ملتان سے گرفتار کیا گیا، جبکہ ابتدائی طور پر لاہور اور ملتان پولیس کے بعض حکام نے گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی تھی۔ 7 ستمبر کو انہیں عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد پولیس تحویل کی صورت حال واضح ہوئی۔
جسمانی ریمانڈ کسی شخص کے مجرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا بلکہ تفتیشی مرحلے میں پولیس کو محدود مدت کے لیے تحویل دی جاتی ہے۔ عدالت آئندہ سماعتوں میں تفتیشی پیش رفت اور قانونی تقاضوں کا جائزہ لے سکتی ہے۔ حماد اظہر کو اپنے دفاع، وکیل تک رسائی اور عدالتی کارروائی میں قانونی حقوق حاصل رہیں گے۔
کیس کی آئندہ پیش رفت میں پولیس کی تفتیش، ممکنہ شواہد، گواہوں کے بیانات اور دفاعی اعتراضات اہم ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ عدالتی پیش رفت یہی ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں حماد اظہر کا 21 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔




