لاہور/ملتان: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کو ملتان سے گرفتار کرکے لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے عدم پیشی کے باعث اشتہاری قرار دیے جانے اور مستقل وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی کارروائی بھی ہو چکی تھی۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ حماد اظہر کو ملتان کے آر اے بازار کے قریب ایک قریبی ساتھی کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ ان پر لاہور میں گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس (جی او آر) گیٹ پر حملے سے متعلق مقدمے سمیت 9 مئی کے کئی مقدمات میں نامزد ہونے کا الزام ہے۔ گرفتاری کے بعد انہیں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے لاہور پولیس کے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ 50 سے زیادہ مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، تاہم ہر مقدمے میں الزامات کی نوعیت اور قانونی حیثیت الگ الگ عدالتی کارروائی سے طے ہوگی۔

حماد اظہر نے ماضی میں لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کے لیے بھی رجوع کیا تھا۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج ہونے پر وہ کچھ عرصہ منظرِ عام سے دور رہے اور بعد میں پارٹی عہدے سے استعفیٰ بھی دیا تھا، تاہم تحریک انصاف نے انہیں پنجاب میں تنظیمی ذمہ داریاں بھی سونپی تھیں۔

9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوا تھا، جن میں سرکاری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ان واقعات سے متعلق بڑی تعداد میں مقدمات درج ہوئے اور مختلف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی سمیت دیگر قوانین کے تحت کارروائیاں شروع کی گئیں۔ حماد اظہر کی موجودہ گرفتاری پولیس کی بیان کردہ مطلوبگی اور عدالتی وارنٹس کے تناظر میں ہوئی ہے؛ ان کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔