لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق جناح ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ حماد اظہر کو ان کے تازہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے مزید جسمانی تحویل کی درخواست کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔
پولیس نے سرور روڈ تھانے میں متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف 9 مئی کے احتجاج کے دوران جناح ہاؤس پر حملے اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ حماد اظہر اس مقدمے میں ملزم ہیں؛ ان پر عائد الزامات کا حتمی تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہونا ہے۔ جوڈیشل ریمانڈ کا حکم کسی جرم کے ثابت ہونے یا بریت کا فیصلہ نہیں بلکہ زیر سماعت مقدمے میں تحویل کی نوعیت سے متعلق عدالتی کارروائی ہے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس حماد اظہر کا پولی گراف ٹیسٹ کرانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ دفاعی وکیل نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولی گراف ٹیسٹ کے لیے ملزم کی رضامندی ضروری ہے اور متعلقہ عدالتی نظیر کے مطابق یہ طریقہ کار جوڈیشل ریمانڈ کے دوران بھی ہو سکتا ہے۔ عدالت نے استغاثہ اور دفاع کے دلائل کے بعد مزید جسمانی تحویل کی درخواست منظور نہیں کی۔
حماد اظہر کے وکیل کے مطابق اس حکم کے ساتھ ان کا مجموعی تقریباً 50 روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہوا اور انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ اس سے قبل 15 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے اسی کیس میں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 12 روز کی توسیع کی تھی۔ پولیس کا الزام ہے کہ حماد اظہر جناح ہاؤس پر حملے میں کردار رکھتے تھے، جبکہ دفاع ان الزامات اور مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت کو چیلنج کرتا رہا ہے۔
حماد اظہر سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور پی ٹی آئی پنجاب کی صدارت بھی کر چکے ہیں۔ وہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں نامزد کیے گئے تھے اور کچھ عرصہ روپوش رہنے کے بعد ستمبر 2026 میں پولیس کی تحویل میں آئے۔ موجودہ عدالتی حکم صرف جناح ہاؤس حملہ کیس میں ان کی تحویل سے متعلق تازہ پیش رفت ہے؛ مقدمے کی سماعت اور الزامات پر فیصلہ ابھی باقی ہے۔
