پشاور: ہری پور سے اغوا ہونے والی کمسن بچی آیت کی عدم بازیابی کا معاملہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اٹھایا گیا، جہاں رکن اسمبلی شازیہ جدون نے بچی کو بحفاظت واپس نہ لانے کی صورت میں ایوان کے اندر دھرنا دینے کا عندیہ دیا۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق پولیس تفتیش جاری ہے اور صوبائی حکومت نے ایوان کو تلاش اور گرفتاریوں سے متعلق آگاہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شازیہ جدون نے مطالبہ کیا کہ اغوا میں ملوث افراد کے بارے میں مکمل تفتیش کی جائے اور بچی کی محفوظ بازیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آیت کو واپس نہ لایا گیا تو وہ اسمبلی میں دھرنا دیں گی۔ ان کا بیان سیاسی اور عوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے؛ اسے بچی کی بازیابی یا کسی ملزم کے جرم کے حتمی ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
معاون خصوصی ملک عدیل نے ایوان میں کہا کہ بچی کے اغوا کی پولیس تحقیقات کررہی ہے اور معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔ صوبائی وزیر اکبر ایوب کے مطابق واقعہ سنگین ہے، کیس سے متعلق کچھ افراد گرفتار کیے گئے ہیں اور مزید مشتبہ افراد کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس ایک ایک گھر اور جگہ تلاش کررہی ہے اور حکام نے بازیابی کی امید دلائی ہے۔
دستیاب رپورٹ گرفتار افراد کی تعداد، ان کے نام، ان پر عائد ممکنہ دفعات یا عدالت میں پیشی کی تفصیل فراہم نہیں کرتی۔ اسی طرح اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ بچی بازیاب ہوچکی ہے۔ اس لیے گرفتاری کو جرم ثابت ہونے، اور حکام کی امید کو حتمی نتیجے یا مقررہ وقت کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔
بچوں کے اغوا کے معاملات میں غیر مصدقہ شناختیں، قیاس آرائیاں اور تفتیشی تفصیل کی قبل از وقت تشہیر متاثرہ خاندان اور جاری کارروائی دونوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ اردو ہیڈ لائنز نے اسی بنا پر صرف اسمبلی میں رپورٹ شدہ مطالبات اور صوبائی حکام کے بیان تک خبر محدود رکھی ہے؛ بچی یا خاندان کی کوئی تصویر، ذاتی پتہ یا غیر ضروری شناختی تفصیل شامل نہیں کی گئی۔
یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست رپورٹ کی جانچ کے بعد تیار ہوئی ہے۔ شازیہ جدون، ملک عدیل اور اکبر ایوب کے بیانات انہی سے منسوب ہیں، جبکہ تفتیش، گرفتاری اور بازیابی کو الگ مراحل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




