اسلام آباد: سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کو بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور واک آؤٹ کیا، جبکہ کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس اگلے روز صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی صدارت میں ہوا اور کارروائی کے دوران متعدد ترمیمی بل متعلقہ کمیٹیوں کو بھی بھیجے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے عمران خان کی صحت پر گفتگو کرنا چاہی، جبکہ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر اس موضوع پر قرارداد یا تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے تھے۔ ڈپٹی چیئرمین نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت میں زیر سماعت معاملے پر ایوان میں بات نہیں ہوسکتی اور ایوان کی کارروائی قواعد کے مطابق چلائی جائے گی۔
قائد حزب اختلاف کو فوری طور پر وقت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے اور نعرے بازی کی۔ ایکسپریس کے مطابق ڈپٹی چیئرمین نے راجہ ناصر عباس کو یقین دلایا کہ انہیں وقت دیا جائے گا، تاہم پہلے ایجنڈے کا کاروبار چلنے دیا جائے۔ اس دوران مشعال یوسفزئی نے کورم کی نشاندہی کردی اور پی ٹی آئی ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔
کورم کی نشاندہی کے بعد ارکان کو واپس بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں، لیکن مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی۔ نتیجتاً اجلاس کو اگلے روز صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ یہ پیش رفت پارلیمانی کارروائی میں کورم کی عملی اہمیت بھی واضح کرتی ہے: اگر مقررہ کم از کم تعداد موجود نہ ہو تو ایوان معمول کا قانون سازی کا کام جاری نہیں رکھ سکتا۔
رپورٹ میں کسی عدالتی فیصلے، عمران خان کی صحت کی نئی طبی تفصیل یا اپوزیشن کی مجوزہ تحریک کے متن کی منظوری کا ذکر نہیں۔ اس لیے اس واقعے کو ایوان کے اندر طریقۂ کار، زیر سماعت معاملے پر گفتگو کی اجازت اور اپوزیشن کے احتجاج تک محدود سمجھنا چاہیے۔ واک آؤٹ سیاسی احتجاج تھا، اس سے کسی قانونی دعوے کی صحت خود بخود ثابت نہیں ہوتی۔
یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست پارلیمانی رپورٹنگ کی جانچ کے بعد تیار کی گئی ہے۔ تمام سیاسی مؤقف متعلقہ فریقوں سے منسوب رکھے گئے ہیں اور اجلاس ملتوی ہونے کو کسی بل کی منظوری یا رد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




