لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک الگ صنعتی کنکشن سے منسوب مبینہ واجبات کی وصولی کے لیے علیحدہ گھریلو بجلی کنکشن منقطع کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ اتھارٹی کو معاملہ دوبارہ سننے کی ہدایت کی ہے۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق جسٹس جاوید حسن نے غازی خان کی درخواست پر حکم جاری کیا۔

درخواست گزار وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان کے بھائی ہیں۔ انہوں نے میسرز سپیریئر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے ایک الگ صنعتی کنکشن سے متعلق مبینہ بقایاجات کی بنیاد پر اپنے رہائشی بجلی کنکشن کو منقطع کرنے کی دھمکی چیلنج کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو کنکشن کا الگ میٹر، ریفرنس نمبر، بلنگ ریکارڈ اور ادائیگی کی تاریخ ہے، اور درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ رہائشی بل باقاعدگی سے ادا کیے گئے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متنازع صنعتی واجبات کسی دوسرے اور الگ مقام کے گھریلو کنکشن کو کاٹ کر وصول نہیں کیے جاسکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صنعتی واجبات سے متعلق کارروائی پہلے ہی متعلقہ فورم پر زیر سماعت ہے اور بجلی ایکٹ 1910 کی دفعہ 24 کے تحت مقررہ نوٹس کی شرائط پر عمل نہیں ہوا۔

درخواست میں آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 10 اے کے تحت قانونی طریق کار، زندگی اور منصفانہ سماعت کے حقوق کا حوالہ بھی دیا گیا۔ یہ نکات درخواست گزار کے وکیل کے دلائل ہیں؛ انہیں عدالت کی جانب سے صنعتی واجبات ختم کرنے یا ان کے غیر موجود ہونے کی حتمی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ متعلقہ حکام کو درخواست گزار کے مؤقف کی روشنی میں معاملہ دوبارہ دیکھنے کا موقع دینا مناسب ہے۔ جسٹس جاوید حسن نے اتھارٹی کو ہدایت کی کہ درخواست اور ساتھ جمع دستاویزات کو نمائندگی تصور کیا جائے، تمام متعلقہ فریقوں خصوصاً درخواست گزار کو مناسب سماعت دی جائے اور قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی حکم جاری کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق اتھارٹی کو دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے اور متعلقہ عدالتی نظائر مدنظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔ نمائندگی پر فیصلے تک درخواست گزار کے خلاف کوئی تادیبی یا جبری کارروائی نہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا، جس کے بعد درخواست نمٹا دی گئی۔ اس کا مطلب صنعتی واجبات کی رقم یا ذمہ داری کا حتمی فیصلہ نہیں، بلکہ الگ گھریلو کنکشن کے تحفظ اور باقاعدہ سماعت کی ہدایت ہے۔

یہ خبر دی نیشن کی براہ راست عدالتی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ حکم، وکیل کے دلائل اور زیر التوا واجبات کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے؛ کسی فریق کی واجبات سے بریت یا صنعتی دعوے کے خاتمے کا غیر مذکور نتیجہ شامل نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک