لندن: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز سے ملاقات میں پاکستانی ملاحوں کی محفوظ اور جلد واپسی کے لیے فوری ادارہ جاتی اقدامات پر زور دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات لندن میں ہوئی، جہاں پاکستان اور عالمی بحری ادارے کے درمیان جاری تعاون بھی زیر بحث آیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار نے ایم ٹی آنر 25 پر یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے جاری کوششوں میں آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل کی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی ملاحوں کی جلد واپسی کے لیے ادارہ جاتی سطح پر فوری اور مؤثر مداخلت ضروری ہے۔ دستیاب رپورٹ میں رہائی یا پاکستان واپسی مکمل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا؛ معاملہ جاری کوششوں اور مطلوبہ اقدامات کے طور پر بیان ہوا ہے۔

ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم نے آئی ایم او کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعاون اور وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مؤثر اور محفوظ بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے لیے عالمی ادارے کے کردار کو سراہا۔ اس گفتگو کا مرکز صرف موجودہ ملاحوں کا معاملہ نہیں تھا بلکہ بحری سلامتی، تحفظ اور ضابطہ جاتی تعاون کے وسیع پہلو بھی شامل تھے۔

اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے بحری امور کی حکمرانی مضبوط بنانے، بین الاقوامی بحری معیارات پر عمل درآمد اور ملکی بلیو اکانومی کو آگے بڑھانے کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں جانب بحری سلامتی و تحفظ، ضابطہ جاتی اصلاحات اور پاکستان کے بحری شعبے کی ترقی سمیت تعاون مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔

بین الاقوامی جہاز رانی میں عملے کی حفاظت، بندرگاہی ضابطوں اور ریاستوں کے درمیان رابطے کا تعلق متعدد اداروں سے ہوتا ہے۔ اسی لیے نائب وزیراعظم کی جانب سے آئی ایم او کی فوری مداخلت کا مطالبہ ایک سفارتی اور ادارہ جاتی کوشش ہے؛ اسے ملاحوں کی واپسی کی حتمی تاریخ یا نتیجے کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ حکام اور بحری اداروں کی کارروائی پر ہوگا۔

یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ اردو ہیڈلائنز نے ملاقات، 10 پاکستانی ملاحوں، ایم ٹی آنر 25 اور تعاون کے بیان کردہ نکات کو ماخذ کی حدود میں رکھا ہے اور رہائی کی غیر مصدقہ پیش رفت شامل نہیں کی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک