لاہور: حکومت پنجاب نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں بیرونی مقامات پر ڈرون اڑانے کی پابندی مزید 30 روز کے لیے بڑھا دی ہے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق پابندی ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کی ذیلی دفعہ 6 کے تحت نافذ کی گئی ہے اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو اس پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکم کے تحت عام کھلے مقامات پر ڈرون کی پرواز ممنوع رہے گی۔ اس کا مقصد سکیورٹی کے خطرات کو کم کرنا اور غیر مجاز فضائی نگرانی یا دوسرے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کسی مخصوص واقعے کو اس توسیع کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا، اس لیے پابندی کو صوبہ گیر احتیاطی اقدام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

چھوٹے ڈرون ہالز اور شادی کی مارکیز جیسے بند مقامات کے اندر استعمال کیے جا سکیں گے، لیکن منتظمین ان کے محفوظ استعمال کے ذمہ دار ہوں گے۔ یہ استثنا بیرونی حدود یا کھلے آسمان تلے پرواز کی اجازت نہیں دیتا اور تقریبات کے منتظمین کو متعلقہ مقام کی حفاظت اور مقامی ضوابط کی پابندی یقینی بنانا ہوگی۔

انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ زرعی، آبپاشی یا تحقیقی مقاصد کے لیے ڈرون استعمال کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے، مگر اس کے لیے متعلقہ ضلع کی سیف ڈرون یوزج کمیٹی سے تحریری منظوری ضروری ہوگی۔ صرف مطلوبہ مقصد بیان کردینا اجازت کے برابر نہیں؛ درخواست گزار کو باضابطہ منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے عملی تقاضا یہ ہے کہ بیرونی پرواز سے پہلے پابندی کی مدت، مجاز استثنا اور تحریری اجازت کی حیثیت واضح کریں۔ 30 روز کی توسیع کے بعد آئندہ پالیسی کا فیصلہ سکیورٹی جائزے اور حکومت کے نئے حکم سے ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک