کراچی: کراچی پولیس نے افسران کی ذاتی تشہیر اور تصاویر کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے پہلے سے آویزاں بصری مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی جانب سے 24 اگست کو جاری کیے گئے سرکلر میں پولیس کے نام اور وسائل کو کسی فرد کی تشہیر کے بجائے ادارہ جاتی خدمت، کارکردگی اور عوامی آگاہی تک محدود رکھنے کی پالیسی واضح کی گئی۔
سرکلر کے مطابق پولیس افسران کی تصاویر بینرز، بل بورڈز، پوسٹرز، اسٹینڈیز، تقریبات کے بیک ڈراپس، سرکاری گاڑیوں، عمارتوں اور عوامی مقامات پر استعمال نہیں کی جائیں گی۔ یہی پابندی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر جاری کیے جانے والے ایسے مواد پر بھی لاگو ہوگی جس کا بنیادی مقصد کسی افسر کی شخصی تشہیر ہو۔
ہدایت میں کہا گیا ہے کہ پولیس کا عوامی مواد ادارے کی شناخت، شہریوں کو دی جانے والی خدمات، پیشہ ورانہ کارکردگی اور ضروری آگاہی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس طرح کسی کامیاب کارروائی یا شہری سہولت کے بارے میں معلومات دی جا سکتی ہیں، لیکن پیش کش کا مرکز متعلقہ افسر کی شخصیت نہیں بلکہ محکمانہ ذمہ داری اور عوامی مفاد ہونا چاہیے۔
پولیس شہدا کی تصاویر کے لیے محدود استثنا رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یادگاری تقریبات، شہدا کی یاد میں قائم مقامات یا مجاز مواقع پر ان کی تصاویر استعمال کی جا سکیں گی۔ اس استثنا کو عام شخصی تشہیر یا غیر متعلقہ مہمات تک نہیں پھیلایا گیا۔
سرکلر میں تمام متعلقہ حکام کو فوری اور سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق فیصلے کا مقصد عوامی اعتماد، خدمت اور ادارہ جاتی نظم کو مرکزی حیثیت دینا ہے۔ حکم کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ماتحت دفاتر، تھانے اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود مواد کا بروقت جائزہ لے کر پالیسی کے مطابق اسے درست کریں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




