اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جس قانون میں اہل کنٹریکٹ ملازمین کے لیے ’ڈیمڈ‘ یعنی ازخود نافذ سمجھی جانے والی شق موجود ہو، وہاں مقررہ شرائط پوری ہوتے ہی مستقلی کا قانونی اثر خودکار طور پر پیدا ہو جاتا ہے۔ اردو پوائنٹ پر شائع ہونے والی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈین کی جانب سے دائر سول درخواست مسترد کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلٹ ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔
دو رکنی بنچ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تھا۔ مقدمہ ان دو ملازمین سے متعلق تھا جن کی تقرری 26 دسمبر 2001 کو کنٹریکٹ پر ہوئی اور جنہوں نے مسلسل خدمات انجام دیں۔ رپورٹ کے مطابق 2006 کی قانونی ترمیم میں شامل ’ڈیمڈ‘ شق کے تحت اہلیت کی شرائط پوری ہونے کے بعد ان کی ملازمت کی حیثیت مستقل سمجھی گئی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ متعلقہ محکمہ یا ادارہ صرف انتظامی کارروائی میں تاخیر یا باضابطہ حکم جاری نہ کرنے کو بنیاد بنا کر ایسا حق ناکام نہیں بنا سکتا جو قانون نے خود پیدا کیا ہو۔ اس اصول کا اطلاق اسی صورت میں ہوگا جب متعلقہ ملازم قانون میں دی گئی تمام شرائط پوری کرتا ہو؛ فیصلے کو ہر کنٹریکٹ تقرری کے لیے بلاشرط عمومی مستقلی کا حکم نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق بنچ نے ٹریبونل کے فیصلے میں کوئی قانونی نقص نہیں پایا۔ عدالتی بحث میں آئین کے آرٹیکل 4، آرٹیکل 3 اور آرٹیکل 38 کے تناظر کا بھی ذکر کیا گیا، جن کا تعلق قانون کے مطابق سلوک، استحصال کے خاتمے اور شہریوں کی معاشی و سماجی بہبود سے ہے۔
یہ فیصلہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں ان مقدمات کے لیے اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے جہاں ملازمین کی اہلیت پوری ہونے کے باوجود کاغذی کارروائی التوا کا شکار رہی ہو۔ تاہم ہر دعوے کا نتیجہ متعلقہ قانون، تقرری کی شرائط، مسلسل خدمت اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر الگ طے ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




