لاہور: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف پر انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سہ فریقی سیریز کے میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا، جس کے بعد گزشتہ 24 ماہ میں ان کے مجموعی ڈی میرٹ پوائنٹس پانچ ہو گئے ہیں۔
آئی سی سی کی میڈیا ریلیز کے مطابق واقعہ میچ کے 46ویں اوور میں پیش آیا، جب حارث رؤف نان اسٹرائیکر اینڈ پر بیٹنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک گیند کو وائیڈ قرار دینے کی اپیل کی اور اپیل مسترد ہونے کے بعد انگلینڈ کے آل راؤنڈر ول جیکس سے بحث ہوئی۔ میچ حکام کے مطابق آن فیلڈ امپائر شرف الدولہ کی وارننگ کے باوجود بحث جاری رہی اور حارث نے مایوسی میں اپنا بیٹ بھی بلند کیا۔
آئی سی سی نے اس طرز عمل کو ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.20 کی خلاف ورزی قرار دیا، جو کھیل کی روح کے منافی رویے سے متعلق ہے۔ خلاف ورزی لیول ون میں رکھی گئی۔ حارث رؤف نے جرم اور میچ ریفری جیف کرو کی تجویز کردہ سزا قبول کر لی، اس لیے باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
یہ گزشتہ 24 ماہ میں حارث رؤف کی تیسری ضابطہ اخلاق خلاف ورزی ہے۔ ڈی میرٹ پوائنٹس کا نظام کھلاڑیوں کے رویے کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مقررہ مدت میں پوائنٹس ایک حد تک پہنچنے پر معطلی کے پوائنٹس میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ موجودہ کارروائی میں آئی سی سی نے 20 فیصد میچ فیس جرمانے اور ایک اضافی ڈی میرٹ پوائنٹ کی تصدیق کی ہے۔
یہ واقعہ اس میچ میں پیش آیا جس میں پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔ حارث رؤف نے بیٹنگ میں 19 گیندوں پر سات رنز بنائے اور شاداب خان کے ساتھ آخری مراحل میں اہم شراکت کے ذریعے ٹیم کو ہدف تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
اسی میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کو سلو اوور ریٹ پر بھی سزا دی گئی۔ آئی سی سی کے مطابق مقررہ وقت میں انگلینڈ تین اوور پیچھے تھا، جس پر کھلاڑیوں کی میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ کیا گیا۔ انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے بھی خلاف ورزی اور سزا قبول کی۔
آئی سی سی کی یہ کارروائی کھیل کے میدان میں مسابقتی تناؤ اور ضابطہ اخلاق کے درمیان حد کو واضح کرتی ہے۔ جرمانہ کسی کرکٹنگ کارکردگی یا میچ نتیجے میں تبدیلی نہیں کرتا، بلکہ کھلاڑی کے رویے سے متعلق تادیبی کارروائی ہے۔ حارث رؤف کے آئندہ کسی ضابطہ خلاف ورزی کی صورت میں موجودہ ڈی میرٹ پوائنٹس متعلقہ آئی سی سی قواعد کے تحت اہم ہو سکتے ہیں۔
