ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک اور پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے پنجاب میں کلائمیٹ اسمارٹ زرعی فنانسنگ کے اقدام کو وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دی نیوز کے مطابق دونوں اداروں کا تعاون اب محدود پائلٹ مرحلے سے نکل کر صوبائی سطح پر توسیع کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد کسانوں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مالی خدمات اور زرعی خطرات کے بہتر جائزے کو فروغ دینا ہے۔
بینک کے بیان کے مطابق اس ماڈل میں سیٹلائٹ ڈیٹا انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے رسک اسیسمنٹ کو زرعی فنانسنگ کے فیصلوں میں استعمال کیا جائے گا۔ پنجاب پاکستان کی زرعی پیداوار میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے منصوبے کی صوبہ بھر میں توسیع کو زرعی قرضوں کے دائرہ کار اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے حوالے سے اہم مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔
روایتی زرعی قرضوں میں فصل، زمین، موسمی حالات اور پیداوار سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا وقت طلب اور مہنگا ہو سکتا ہے۔ سیٹلائٹ مشاہدات اور ریموٹ سینسنگ سے فصلوں اور زرعی رقبے کے بارے میں اضافی ڈیٹا دستیاب ہو سکتا ہے، جسے مالی ادارے دیگر تصدیقی معلومات کے ساتھ ملا کر خطرے کا اندازہ لگانے میں استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی قرض کی منظوری، شرح یا شرائط کا فیصلہ متعلقہ بینک کی پالیسی اور قواعد کے تحت ہی ہوگا۔
کلائمیٹ اسمارٹ فنانسنگ کا تصور ایسے مالی طریقوں سے متعلق ہے جو موسمی خطرات، پانی کی دستیابی، فصلوں کی برداشت اور زرعی پیداوار کی پائیداری کو مدنظر رکھیں۔ پاکستان میں سیلاب، گرمی، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں کے بڑھتے خطرات کے باعث زرعی شعبے میں موسمی معلومات اور مالی منصوبہ بندی کا باہمی تعلق زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔
ایچ بی ایل مائیکروفنانس اور سپارکو کے تعاون کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا کی درستگی، زمینی تصدیق، کسانوں کی رسائی، قرضوں کی لاگت اور ڈیجیٹل نظام کو کس طرح یکجا کیا جاتا ہے۔ موجودہ اعلان میں بنیادی پیش رفت پائلٹ منصوبے کو پنجاب بھر میں وسعت دینے کی ہے؛ اس کے مالی حجم یا کسانوں کی حتمی تعداد کے بارے میں رپورٹ میں کوئی جامع ہدف بیان نہیں کیا گیا۔
