اسلام آباد: پاکستان کے 1.75 ارب یوآن، تقریباً 258 ملین ڈالر، مالیت کے پائیدار پانڈا بانڈ کو 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈز میں ’’پائنیئر سسٹین ایبل سوورن پانڈا بانڈ ایشوئر ایوارڈ‘‘ دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیش رفت کو چین کی کیپٹل مارکیٹ تک پاکستان کی رسائی اور بیرونی مالی وسائل میں تنوع کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اجرا نے پاکستان کو چینی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں تک رسائی کا ایک نیا راستہ فراہم کیا اور پاکستان اور چین کے مالی روابط کو مزید مضبوط کیا۔ ان کے مطابق حکومت مستقبل میں بھی چین کی کیپٹل مارکیٹ سے قرض حاصل کرنے کے امکانات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
حکام کے مطابق اس بانڈ سے حاصل ہونے والی رقوم ماحول دوست اور سماجی اہمیت کے منصوبوں میں استعمال کی جائیں گی، جن میں پانی، توانائی اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔ اس نوعیت کے پائیدار مالیاتی آلات میں سرمایہ کاروں کے لیے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ حاصل شدہ فنڈز مخصوص ماحولیاتی یا سماجی مقاصد کے لیے مختص ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے ویڈیو پیغام میں کلائمیٹ بانڈز انیشی ایٹو، چینی حکومت، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، سرمایہ کاروں، مشیروں، انڈر رائٹرز اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ملنے والی یہ پذیرائی پاکستان کی عالمی سرمایہ منڈیوں تک بڑھتی رسائی، سرمایہ کاروں کی بنیاد میں توسیع اور پائیدار ترقی کے لیے نئے مالی ذرائع حاصل کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس لین دین کی تکمیل میں حکومت پاکستان کے ساتھ اے آئی آئی بی، اے ڈی بی، چینی حکام اور مالیاتی شراکت دار شامل تھے۔ مستقبل کے کسی بھی نئے اجرا کی مقدار، قیمت، مدت یا حتمی ٹائم لائن کے بارے میں اس رپورٹ میں تفصیلی اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے آئندہ بانڈ اجرا کو فی الحال حکومتی ارادے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل شدہ لین دین کے طور پر۔
