اسلام آباد: وفاقی وزارت قومی صحت نے اپنے ماتحت ہسپتالوں، طبی اداروں، بنیادی مراکز صحت (BHU) اور دیہی صحت مراکز (RHC) میں فائر سیفٹی اور بنیادی انفراسٹرکچر کا جامع آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مریضوں، طبی عملے اور عام شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دینے اور ممکنہ خامیوں کی باقاعدہ نشاندہی کی ہدایت دی۔
اے پی پی کے مطابق اجلاس میں طے کیا گیا کہ ایک ماہر کنسلٹنسی فرم کے ذریعے مختلف طبی سہولیات کا تفصیلی تکنیکی جائزہ کرایا جائے گا۔ اس جانچ میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات، برقی نظام، ہیٹنگ، وینٹی لیشن اور ایئر کنڈیشننگ (HVAC)، میڈیکل گیس سسٹمز، بایومیڈیکل آلات اور طبی فضلے کے انتظام جیسے اہم شعبے شامل ہوں گے۔
وزارت کے حکام نے بتایا کہ آڈٹ کا مقصد صرف موجودہ خامیوں کی فہرست بنانا نہیں بلکہ ان کی بنیاد پر ایک قابل عمل اصلاحی منصوبہ تیار کرنا بھی ہے۔ جائزے میں سامنے آنے والی کمزوریوں کے مطابق ترجیحات متعین کی جائیں گی اور ضروری تکنیکی، انتظامی اور انفراسٹرکچر بہتری کے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر صحت نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ حفاظتی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ آگ، برقی خرابی، میڈیکل گیس یا دیگر تکنیکی نظاموں سے متعلق حادثات کے خطرات کم کیے جا سکیں۔ اجلاس میں جوائنٹ سیکریٹری ہسپتالز، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، جوائنٹ سیکریٹری ایڈمنسٹریشن اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔
یہ اقدام فی الحال وزارت صحت کے زیر انتظام اداروں سے متعلق ہے، اس لیے اسے ملک کے ہر سرکاری اور نجی ہسپتال پر فوری طور پر لاگو ہونے والا قومی آڈٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آڈٹ کے نتائج، لاگت، تکمیل کی مدت اور ممکنہ اصلاحی منصوبوں کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی۔ رپورٹ میں صرف وہی دائرہ کار شامل کیا گیا ہے جس کی وزارت کی بریفنگ میں تصدیق ہوئی ہے۔

