اسلام آباد: وزارت قومی صحت نے مذہبی زائرین اور بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے شہریوں کو میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسین فراہم کرنے کے موجودہ انتظام کو روک کر بارڈر ہیلتھ سروسز کے ذریعے جاری متنازع خریداری کا عمل ختم کر دیا ہے۔ وزارت کے مطابق نئی خریداری کے لیے مرکزی سطح پر ایک نیا ٹینڈر تقریباً ایک ماہ میں جاری کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے تصدیق کی کہ موجودہ ویکسینیشن عمل روک دیا گیا ہے اور عبوری مدت میں زائرین کو ضروری ویکسین اپنے ٹریول ایجنٹس کے ذریعے حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہونے والی اعلیٰ سطحی انکوائری کے بعد سامنے آیا، جس میں سابقہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدے کے طریقہ کار اور مالی معاملات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔
انکوائری کا آغاز ان الزامات کے بعد ہوا تھا کہ نئے انتظام کے تحت فی زائر ویکسینیشن لاگت تقریباً 4,500 روپے تک پہنچ سکتی تھی، جبکہ ایک سابقہ انتظام میں ایک خوراک کی قیمت تقریباً 1,250 روپے رہی تھی۔ یہ اعداد مختلف ادوار اور خریداری کے انتظامات سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں ایک مستقل مارکیٹ ریٹ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ وزارت کے حکام کے مطابق ویکسین کی ماضی کی قیمتیں سال بہ سال مختلف رہی ہیں۔
پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کی سربراہی کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے کی، جبکہ اس میں انٹیلی جنس بیورو، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور اٹارنی جنرل آفس کی نمائندگی شامل تھی۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق وزارت نے مئی میں ایک باضابطہ پروکیورمنٹ کمیٹی بنائی تھی، تاہم بارڈر ہیلتھ سروسز کے بعض حکام نے جون میں الگ کمیٹیاں تشکیل دے کر ٹینڈر آگے بڑھایا۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ یہ عمل اس کی نگرانی سے باہر کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر مجاز ٹینڈر سے متعلق ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ دوسری جانب سات دوا ساز کمپنیوں نے بھی بولی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالتی کارروائی اور سرکاری انکوائری الگ قانونی و انتظامی عمل ہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ فورمز پر ہوگا۔
نئے انتظام تک بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے سب سے اہم عملی تبدیلی یہ ہے کہ سرکاری بارڈر ہیلتھ سروسز کے سابقہ ویکسینیشن نظام پر فی الحال انحصار نہیں کیا جا سکے گا۔ وزارت نے کہا ہے کہ مرکزی پروکیورمنٹ کے ذریعے نیا نظام قائم کیا جائے گا، تاہم نئے ٹینڈر کی حتمی شرائط، قیمت اور عملی آغاز کی تاریخ ابھی جاری نہیں کی گئی۔

