راولپنڈی: ڈیوٹی مجسٹریٹ نے حنا جاوید کے قتل کے مقدمے میں ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کو تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر سول لائنز پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے دونوں زیرِ حراست افراد کو عدالت میں پیش کر کے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ مانگا، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مدت مکمل ہونے پر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔ یہ ریمانڈ الزام کی تفتیش کے لیے ہے اور کسی ملزم کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔

حنا جاوید جمعرات کی شام راولپنڈی کے عسکری اپارٹمنٹس میں اپنے فلیٹ کے واش روم میں مردہ پائی گئی تھیں۔ پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات تھے اور گردن کے گرد تار بندھا ہوا تھا۔ واقعے کے بعد شوہر اور ایک ملازم کو حراست میں لیا گیا۔ مقدمے کی ایف آئی آر 20 اگست کو سول لائنز تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور دفعہ 34 کے تحت درج کی گئی۔

ایف آئی آر حنا کے بھائی فاہد جاوید کی شکایت پر درج ہوئی۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ حنا کو ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم نے قتل کیا اور شادی کے بعد ان کے ساتھ بدسلوکی و تشدد ہوتا رہا۔ انہوں نے زہریلی چیز دیے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ یہ تمام باتیں شکایت کنندہ کے الزامات ہیں؛ پولیس اور عدالت نے ابھی ان کی حتمی تصدیق یا کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گردن پر گلا گھونٹے جانے جیسا نشان، دائیں ہونٹ کے نیچے چوٹ اور خون بہنے کی علامات رپورٹ ہوئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سببِ موت کا قطعی تعین پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ آنے کے بعد ہوگا۔ سسر کے کردار کی جانچ جاری ہے، انہیں شہر نہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے، جبکہ متاثرہ خاتون اور خاندان کے تین افراد کے موبائل فون تفتیش کے لیے قبضے میں لیے گئے ہیں۔

پولیس نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں سات رکنی ٹیم قائم کی ہے۔ اگلا اہم مرحلہ فرانزک نتائج، جسمانی ریمانڈ کے دوران حاصل شواہد، موبائل ڈیٹا اور عدالت میں جمع ہونے والی پیش رفت رپورٹ ہوگا۔ اردو ہیڈلائنز اس مقدمے میں الزام، تفتیش، ریمانڈ اور ثابت شدہ عدالتی نتیجے کو الگ رکھتا ہے اور کسی زیرِ حراست فرد کو حتمی فیصلے سے پہلے مجرم قرار نہیں دیتا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک