سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اتوار کو حوثیوں کے ایک مبینہ حملے کے بعد گرنے والے ملبے سے سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع عمارت کی کئی منزلوں کی کھڑکیاں متاثر ہوئیں، تاہم واقعے میں کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ریاض اور مشرقی صوبے کی سمت داغے گئے حوثی میزائلوں کو روکا۔ اتحاد کے مطابق یمن کے صوبہ صعدہ میں دو میزائل لانچرز کو بھی تباہ کیا گیا۔ حوثی تحریک نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن سعودی حکام نے ہوائی اڈے سے متعلق اس مخصوص دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اس لیے حوثیوں کے دعووں اور سعودی حکام کی تصدیق شدہ معلومات میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

سعودی وزارت توانائی کے مطابق آرامکو کی عمارت کو براہ راست کسی میزائل کے لگنے کے بجائے حملہ روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے نقصان پہنچا۔ ابتدائی سرکاری بیان میں نقصان کو محدود قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ایران سے منسلک حوثی تحریک کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے تیل، نقل و حمل اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ اس تازہ واقعے سے خلیجی خطے میں توانائی کی تنصیبات اور شہری مراکز کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید نمایاں ہوئے ہیں، خصوصاً ایسے وقت جب ایران، امریکا اور علاقائی قوتوں کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عالمی توانائی منڈیوں پر اثر ڈال رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے فضائی دفاعی کارروائی اور عمارت کے نقصان کی تصدیق کی ہے، جبکہ حوثیوں کے تمام ہدفی دعووں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ اسی لیے رپورٹ میں حملے کی ذمہ داری کے دعوے کو متعلقہ فریق سے منسوب کیا گیا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہ ملنا اس واقعے کی اہم تصدیق شدہ پیش رفت ہے، جبکہ مادی نقصان کا مکمل تخمینہ بعد کی جانچ کے بعد واضح ہو سکتا ہے۔