سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو حملے کی کوشش کے دوران معمولی نقصان پہنچا ہے، جبکہ سعودی حکام نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔ ڈان اور اے ایف پی کے مطابق سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے نے عمارت کو محدود مادی نقصان پہنچایا۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے میزائل روکنے کا اعلان کیا تھا۔

حوثیوں نے بعد میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے چار کارروائیاں کیں۔ گروپ نے اپنے بیان میں ریاض کے مالیاتی مرکز، ہوائی اڈے، آرامکو کے تیل ذخیرہ کرنے والے مقامات اور مشرقی سعودی شہر ابقیق سمیت متعدد اہداف کا ذکر کیا۔ ان دعوؤں کے تمام حصوں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی، اس لیے انہیں حوثی گروپ کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ سعودی وزارت توانائی نے آرامکو کی انتظامی عمارت کو پہنچنے والے محدود نقصان کی تصدیق کی ہے۔

عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں آرامکو ٹاور کو نقصان دیکھا گیا۔ یہ علاقہ ریاض کے نمایاں کاروباری مراکز میں شامل ہے اور یہاں سعودی عرب کے بڑے مالیاتی اداروں، بین الاقوامی کمپنیوں، پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور سعودی اسٹاک ایکسچینج سمیت اہم اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔ رہائشی عمارتیں اور ایک مصروف میٹرو اسٹیشن بھی اسی علاقے کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کسی حملے کی کوشش سکیورٹی کے اعتبار سے نمایاں واقعہ سمجھی جاتی ہے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاع نے ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکا اور تباہ کیا۔ اس سے قبل سعودی دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ سعودی حکام کے مطابق آرامکو عمارت پر گرنے والے ٹکڑوں سے نقصان محدود رہا اور کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فریقوں کے درمیان کشیدگی 2022 کی جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد دوبارہ بڑھی ہے۔ حالیہ مہینوں میں سعودی ہوائی اڈوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ موجودہ واقعے میں سب سے اہم تصدیق شدہ نکات سعودی وزارت توانائی کی جانب سے آرامکو کی انتظامی عمارت کو محدود نقصان اور کسی جانی نقصان نہ ہونے کا بیان ہیں، جبکہ حملوں کی تعداد اور اہداف سے متعلق وسیع تر تفصیلات حوثیوں کے اپنے دعوؤں پر مبنی ہیں۔