امریکی فوج نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کے ساتھ زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے پابندی زدہ سامان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، نے کہا ہے کہ نئی فورس ایران کی جانب سے جدید ہتھیاروں کے نظام، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور دیگر پابندی زدہ مواد کی ترسیل پر توجہ دے گی۔

ٹاسک فورس کا مرکز ٹمپا، فلوریڈا میں ہوگا اور یہ امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق فورس کا دائرہ صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایسے مالی ذرائع اور سامان کی نقل و حرکت کو بھی ہدف بنایا جائے گا جنہیں واشنگٹن ایران کی فوجی صلاحیت، ہتھیاروں کی تیاری یا دیگر پابندی زدہ سرگرمیوں سے جوڑتا ہے۔ سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اسے مختلف امریکی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا ایران کے خلاف کئی ماہ سے بحری ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے۔ سینٹ کام کے مطابق اس بحری کارروائی نے ایران کی خام تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ پیمائش اور ایرانی مؤقف الگ سوالات ہیں۔ نئی ٹاسک فورس کا مقصد سمندری راستوں کے ساتھ ان زمینی اور علاقائی راستوں پر بھی دباؤ بڑھانا ہے جہاں سے امریکی حکام کے مطابق پابندی زدہ اشیا منتقل ہو سکتی ہیں۔

ایران کی زمینی سرحدیں متعدد ممالک سے ملتی ہیں اور بحیرہ کیسپین بھی علاقائی تجارت کا اہم راستہ ہے، اس لیے نئی امریکی حکمت عملی کے عملی اثرات صرف دوطرفہ امریکا ایران تعلقات تک محدود نہیں رہ سکتے۔ سرحدی تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی نقل و حمل سے متعلق کسی بھی امریکی اقدام کے لیے مقامی ریاستوں کے قوانین، تعاون اور سفارتی ردعمل اہم ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ٹاسک فورس کو دوسرے ممالک کی سرزمین پر خودکار کارروائی کا اختیار مل گیا ہے۔

اس پیش رفت کو امریکی پابندیوں کے نفاذ اور فوجی دباؤ کے ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ آئندہ کارروائیوں، علاقائی حکومتوں کے ردعمل اور ایران کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی سے ہوگا۔ ایران سے متعلق الزامات اور امریکی دعوے متعلقہ فریقوں کے مؤقف ہیں؛ کسی مخصوص کھیپ یا مالی سرگرمی کے بارے میں قانونی نتیجہ الگ شواہد اور باضابطہ کارروائی کا متقاضی ہوگا۔