امریکی فوج نے ایران پر جاری بحری دباؤ کے ساتھ اس کی زمینی تجارت اور پابندی زدہ مواد کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، کے مطابق نئی ٹیم ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستوں پر جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی، پابندی زدہ مواد اور غیر قانونی آمدنی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ رابطہ کرے گی۔
سینٹ کام نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں قائم اس ٹاسک فورس میں 20 فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہوں گے۔ امریکی فوج کے مطابق اس کا بنیادی مقصد ایران کی جانب سے زمینی راستوں کے ذریعے جدید ہتھیار اور دیگر متعلقہ مواد منتقل کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کئی ماہ سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔
سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بیان میں کہا کہ امریکی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے سے ایران کی عسکری صلاحیت دوبارہ قائم کرنے، ہتھیاروں کی تیاری اور امریکی مؤقف کے مطابق دہشت گردی کی مالی معاونت کی صلاحیت محدود کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ امریکی حکومت کا دعویٰ ہے اور ایران کی جانب سے اس مخصوص اعلان پر ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
سینٹ کام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی ایران کو 25 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے روک چکی ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی، جبکہ رائٹرز کے مطابق ناکہ بندی کے باوجود تہران تیل اور مائع قدرتی گیس کی کچھ برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکا نے اگست میں ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے نام سے ایک الگ اقتصادی دباؤ مہم کا بھی اعلان کیا تھا، جس میں ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ٹیکنالوجی، ہوا بازی اور شپنگ سمیت پانچ شعبوں کو ہدف بنایا گیا۔ جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ غیر ایرانی مقامات کے لیے غیر جانب دار جہازوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوگی اور انسانی امداد کی ترسیل معائنے کے بعد ممکن رہے گی۔
نئی ٹاسک فورس کا قیام واشنگٹن کی حکمت عملی میں زمینی اور بحیرہ کیسپین کے راستوں کو بھی زیادہ منظم انداز میں شامل کرنے کی علامت ہے۔ تاہم اس اقدام کے عملی اثرات، علاقائی تجارت پر ممکنہ دباؤ اور ایران کے ردعمل کا اندازہ آنے والے ہفتوں میں ہی واضح ہوگا۔
