اقوام متحدہ میں پاکستان نے عالمی امن مشنز کی جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحات کا مقصد مشنز کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انہیں واضح سیاسی حکمت عملی، قابل عمل مینڈیٹ، مناسب وسائل اور جدید خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے 6 نومبر کو جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی میں امن کارروائیوں کے جامع جائزے پر قومی مؤقف پیش کیا۔

پاکستانی مشن کے سرکاری بیان اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے امن مشنز کے لیے مضبوط سیاسی عزم، حقیقت پسندانہ اور مرکوز مینڈیٹس، کافی مالی و عملی وسائل اور امن اہلکاروں کے تحفظ کو بنیادی ترجیحات قرار دیا۔ پاکستان نے یہ مؤقف ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کو مالی دباؤ، پیچیدہ تنازعات، نئی ٹیکنالوجی اور اہلکاروں کے خلاف حملوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان نے اپنی طویل شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے میں 170,000 سے زائد پاکستانی امن اہلکار اقوام متحدہ کے مختلف مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ 183 پاکستانی اہلکار عالمی امن کی خدمت میں جان سے گئے۔ اس پس منظر میں پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ فوج اور پولیس فراہم کرنے والے ممالک کی عملی ضروریات اور زمینی تجربے کو پالیسی سازی میں مناسب وزن دیا جانا چاہیے۔

سفیر سید حیدر شاہ نے امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر جواب دہی کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 کو بھی نمایاں کیا۔ پاکستان اور ڈنمارک کی قیادت میں پیش رفت کے نتیجے میں منظور ہونے والی اس قرارداد کو سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اپنایا تھا اور اسے ریکارڈ 153 رکن ممالک کی مشترکہ حمایت حاصل ہوئی۔ قرارداد کا مقصد امن مشن اہلکاروں پر حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف احتساب کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستانی مؤقف میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کارکردگی بڑھانے کی کوشش کو محض اخراجات میں کمی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ جدید امن مشنز کو ڈرونز، بارودی آلات، سائبر خطرات اور غلط معلومات جیسے نئے چیلنجز درپیش ہیں، اس لیے انہیں نقل و حرکت، صورتحال سے آگاہی اور مناسب ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے علاقائی تنظیموں، میزبان ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں کے درمیان بہتر تعاون کو بھی پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا۔ یہ بیان پاکستان کی سرکاری پالیسی کی عکاسی کرتا ہے؛ امن مشنز کی عملی اصلاحات کا حتمی دائرہ رکن ممالک کے آئندہ فیصلوں اور بجٹ انتظامات سے طے ہوگا۔