تل ابیب: اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے سابق فوجی سربراہ اور یاشر پارٹی کے رہنما گیڈی آئزنکوٹ کو نئی حکومت بنانے کی کوشش کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت 27 اکتوبر کے انتخابات کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود سب سے بڑی انفرادی جماعت تو بنی، لیکن ان کا وسیع مذہبی و قوم پرست اتحاد 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔

صدر کے دفتر کے مطابق مشاورتی عمل کے دوران 67 ارکانِ کنیسٹ پر مشتمل جماعتوں نے آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کا پہلا موقع دینے کی سفارش کی، جبکہ 46 ارکان نے نیتن یاہو کی حمایت کی اور سات ارکان نے کسی امیدوار کی سفارش نہیں کی۔ اسرائیلی صدر کا عہدہ بڑی حد تک رسمی نوعیت کا ہے، تاہم انتخابات کے بعد پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کر کے کسی رکن کو اتحاد بنانے کی ذمہ داری دینا صدر کے آئینی کردار کا اہم حصہ ہے۔

آئزنکوٹ کو ابتدائی طور پر 28 دن ملیں گے اور قواعد کے تحت اس مدت میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ اس کے باوجود ان کے لیے مستحکم اکثریتی حکومت بنانا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ یاشر پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں، جبکہ آئزنکوٹ کے ساتھ منسلک چار جماعتوں کے اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 48 نشستیں ہیں۔ عرب شہریوں کی نمائندگی کرنے والی دو جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں اور انہوں نے آئزنکوٹ کی نامزدگی کی حمایت کی، لیکن آئزنکوٹ کہہ چکے ہیں کہ وہ ان جماعتوں کے ساتھ باقاعدہ مخلوط حکومت نہیں بنائیں گے۔

دوسری جانب لیکود نے 27 نشستیں جیتیں اور نیتن یاہو کے مذہبی و قوم پرست بلاک کی مجموعی تعداد 53 رہی۔ اس صورت حال میں آئزنکوٹ کے ممکنہ راستوں میں بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت، بعض الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کے ساتھ سمجھوتا، یا کسی وسیع قومی اتحاد کی کوشش شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ان میں سے ہر راستے میں نمایاں سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں اور ابھی کسی حتمی اتحاد کی تصدیق نہیں ہوئی۔

آئزنکوٹ 2022 میں عملی سیاست میں داخل ہوئے تھے اور 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد کچھ عرصہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کا حصہ بھی رہے، بعد میں دوبارہ حزب اختلاف میں چلے گئے۔ سلامتی اور فلسطینی مسئلے پر ان کے کئی مؤقف سخت گیر سمجھے جاتے ہیں، اگرچہ انہوں نے نیتن یاہو کی قیادت اور بعض حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔

اگر آئزنکوٹ مقررہ مدت میں حکومت نہ بنا سکے تو اسرائیلی نظام کے تحت کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ مسلسل ناکامی کی صورت میں پارلیمان بھی کسی امیدوار کو نامزد کر سکتی ہے، اور تمام آئینی راستے ناکام ہونے پر نئے انتخابات کا امکان پیدا ہوگا۔ اس مرحلے پر صدر کی نامزدگی حکومت بننے کی ضمانت نہیں بلکہ اتحاد سازی کے باضابطہ عمل کا آغاز ہے۔