اسرائیل میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور صدر اسحاق ہرزوگ نے سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کی دعوت دی ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر کے دفتر نے بتایا کہ مختلف پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
انتخابات میں کسی ایک سیاسی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی انفرادی طور پر سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، تاہم ان کے مذہبی اور قوم پرست اتحادیوں کے مجموعی ارکان حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم رہے۔ دوسری جانب آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی دوسری بڑی جماعت بنی اور ان کے وسیع تر سیاسی اتحاد کو بھی اپنے طور پر اکثریت حاصل نہیں ہے۔
صدر کے دفتر کے مطابق مشاورت کے دوران 67 ارکان پر مشتمل جماعتوں نے آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کا پہلا موقع دینے کی سفارش کی، جبکہ 46 ارکان نے نیتن یاہو کی حمایت کی اور سات ارکان نے کسی امیدوار کی سفارش نہیں کی۔ اس نامزدگی کا مطلب یہ نہیں کہ آئزنکوٹ وزیراعظم بن چکے ہیں؛ انہیں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے لیے اتحادی مذاکرات کرنا ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق آئزنکوٹ کے پاس ابتدائی طور پر 28 دن ہوں گے اور اس مدت میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ ان کے سامنے ممکنہ راستوں میں عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت کے ساتھ اقلیتی حکومت، بعض الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا وسیع قومی اتحاد شامل ہیں، تاہم سیاسی اختلافات کے باعث ہر راستہ پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ آئزنکوٹ نے اعلان کے بعد قومی ہنگامی حکومت بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اگر آئزنکوٹ مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو اسرائیلی آئینی طریقہ کار کے تحت کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ مسلسل ناکامی کی صورت میں پارلیمان ایک اور امیدوار نامزد کر سکتی ہے اور بالآخر نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت حکومت کی حتمی تشکیل نہیں بلکہ انتخابات کے بعد جاری سیاسی عمل کا اہم مرحلہ ہے۔
