کراکوف: پولینڈ کے تاریخی شہر کراکوف کے مرکزی چوک میں فائرنگ کے واقعے میں چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق ایک شخص گاڑی کے ذریعے Main Square پہنچا اور وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ حملہ آور کو گولی ماری، جس کے بعد اسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر کے حراست میں لے لیا گیا۔
ابتدائی سرکاری معلومات میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں مقامی حکام اور میڈیا اپ ڈیٹس میں تعداد چھ ہوگئی۔ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں ابتدائی طور پر تقریباً ایک درجن افراد کا ذکر کیا گیا۔ ایسے واقعات میں اعداد و شمار طبی صورتحال اور پولیس کی تصدیق کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے حتمی تعداد متعلقہ حکام کی مزید بریفنگ سے واضح ہوگی۔
پولیس کی ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ایک ہی حملہ آور سامنے آیا ہے اور وہ پولش شہری ہے۔ حکام نے ابھی اس کے ممکنہ محرک کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کیے جبکہ ایمبولینسیں اور ہنگامی خدمات بڑی تعداد میں موقع پر پہنچیں۔ کراکوف کا مرکزی تاریخی علاقہ مقامی باشندوں کے ساتھ غیر ملکی سیاحوں میں بھی انتہائی مقبول ہے۔
وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے واقعے کو المناک فائرنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس حملے کے پس منظر اور تمام حالات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ صدر کارول ناوروکی نے بھی کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں اور مکمل وضاحت کے منتظر ہیں۔ اس مرحلے پر حکومت نے کسی غیر ملکی تنظیم، سیاسی گروہ یا بیرونی ریاست کو واقعے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا، اس لیے محرک کے بارے میں قیاس آرائی کو تصدیق شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔
پولینڈ میں بڑے پیمانے کی مہلک فائرنگ نسبتاً کم دیکھنے میں آتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ملک میں بعض پرتشدد واقعات کے بعد سکیورٹی ادارے پہلے ہی چوکنا تھے، تاہم کراکوف کے واقعے اور کسی دوسرے واقعے کے درمیان تعلق کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تفتیش کاروں کی توجہ حملہ آور کی شناخت، اسلحے کے حصول، واقعے سے پہلے کی سرگرمیوں اور ممکنہ محرک پر مرکوز ہوگی۔
کراکوف پولینڈ کے اہم تاریخی اور سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس کا Main Square شہر کی سب سے مصروف جگہوں میں سے ایک ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ مزید تفصیلات، زخمیوں کی حالت اور حملے کے محرک کے بارے میں معلومات پولیس اور استغاثہ کی جاری تحقیقات کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔
