ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میں 95 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے باوجود حکومت سازی کی تصویر واضح نہیں ہو سکی اور وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کی نیشنل پارٹی اور اس کے اتحادی انتہائی معمولی اکثریت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیشنل پارٹی، لبرٹیرین اے سی ٹی اور پاپولسٹ نیوزی لینڈ فرسٹ پر مشتمل دائیں بازو کا اتحاد ممکنہ طور پر صرف ایک نشست کی برتری سے حکومت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے، تاہم خصوصی اور بعد از انتخاب ووٹوں کی گنتی نتیجے کو تبدیل کر سکتی ہے۔

انتخابی رات کے اختتام پر وزیراعظم لکسن نے واضح فتح کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ نیشنل پارٹی ایک مرتبہ پھر پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور حکومت بنانے کا راستہ موجود ہے، لیکن نتیجہ ابھی اتنا قریب ہے کہ اسے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیوزی لینڈ میں بعد میں شمار ہونے والے خصوصی ووٹ تاریخی طور پر بائیں بازو کی جماعتوں کے لیے نسبتاً بہتر رہے ہیں، اس لیے پارلیمانی نشستوں کی آخری تقسیم میں تبدیلی ممکن ہے۔

دوسری جانب لیبر پارٹی کے رہنما کرس ہپکنز نے بھی شکست تسلیم نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹرز نے اپنی رائے دے دی ہے لیکن اس کا مکمل مطلب سمجھنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ لیبر کی قیادت والا بائیں بازو کا بلاک ابتدائی اور انتخابی دن کے ووٹوں میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا، تاہم حتمی نتائج اور ممکنہ اتحادی مذاکرات حکومت کی تشکیل کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔

نیوزی لینڈ کا متناسب نمائندگی پر مبنی انتخابی نظام اکثر چھوٹی جماعتوں کو حکومت سازی میں اہم کردار دیتا ہے۔ موجودہ قریب ترین نتیجے میں یہ کردار مزید بڑھ گیا ہے، کیونکہ ایک یا دو نشستوں کی تبدیلی بھی کسی اتحاد کی اکثریت ختم یا قائم کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو حتمی شمار کے ساتھ ممکنہ اتحادی شرائط پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

انتخابات میں مہنگائی، رہائش کی لاگت اور عوامی خدمات جیسے مسائل نمایاں رہے۔ فوری نتیجہ نہ آنے کی صورت میں نیوزی لینڈ کو حکومت سازی کے لیے کئی دن یا ہفتے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ الیکشن حکام کی جانب سے مکمل گنتی کے بعد ہی نشستوں کی حتمی تقسیم اور اگلی حکومت کے امکانات زیادہ واضح ہوں گے۔