یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں میں ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی فراہمی محدود یا بند کرنا پڑی۔ حملوں کے بعد توانائی اداروں نے متاثرہ تنصیبات کا جائزہ لینے اور گرڈ کو مستحکم رکھنے کے لیے مرمت اور لوڈ مینجمنٹ شروع کردی۔

رائٹرز کے مطابق یوکرین کی فضائی دفاعی فورسز نے آنے والے روسی ہتھیاروں میں سے متعدد کو روکنے کی اطلاع دی، تاہم کچھ میزائل اور ڈرون اپنے اہداف تک پہنچے اور توانائی سے متعلق مقامات کو نقصان پہنچا۔ یوکرینی حکام نے شہریوں کو بجلی کے استعمال میں احتیاط اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا۔

روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران توانائی کا نظام بارہا حملوں کی زد میں آیا ہے۔ سرد موسم کے قریب آتے ہی بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، سب اسٹیشنز، ٹرانسمیشن لائنیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے کیونکہ بجلی کی بندش گھروں کی حرارت، پانی کی فراہمی، صنعت اور مواصلاتی نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔ یوکرین نے گزشتہ برسوں میں گرڈ کی مرمت، درآمدی بجلی اور متبادل ذرائع کے ذریعے نظام کو فعال رکھنے کی کوشش کی ہے۔

ماسکو نے ماضی میں کہا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف یوکرین کی فوجی اور فوجی معاونت کرنے والی تنصیبات ہیں، جبکہ کیف کا مؤقف ہے کہ توانائی کے نظام پر حملوں سے شہری آبادی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ جنگی حالات میں دونوں فریقوں کے فوری دعووں کی آزادانہ تصدیق اکثر مشکل ہوتی ہے، اس لیے نقصان، ہتھیاروں کی تعداد اور فوجی نتائج سے متعلق اعداد کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کرنا ضروری ہے۔

تازہ حملوں کے بعد یوکرینی توانائی حکام نے بعض علاقوں میں ہنگامی بندشیں نافذ کیں تاکہ گرڈ پر دباؤ کم کیا جا سکے اور مرمت کے دوران بڑے پیمانے کی خرابی سے بچا جا سکے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کا وقت مقامی نقصان اور مرمت کی رفتار پر منحصر ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب جنگ جاری ہے اور دونوں جانب طویل فاصلے کے حملے ایک اہم فوجی حربہ بنے ہوئے ہیں۔ توانائی کے نظام پر مزید حملے یوکرین کے لیے موسم سرما میں شہری خدمات برقرار رکھنے کا چیلنج بڑھا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں نقصان کی مکمل سطح، بجلی کی بحالی اور مزید حفاظتی اقدامات سے متعلق تفصیلات یوکرینی حکام اور توانائی کمپنیوں کی تازہ رپورٹس سے واضح ہوں گی۔